امارت شرعیہ کے اجلاس میں امڈی شہر کلکتہ کی بھیڑ(پریس ریلیز) کولکاتا،۱۸؍نومبر ۲۰۲۴ء نیکی اور خیر و بھلائی کے کاموں کے لئے اپنی اراضی کو وقف کرنا بہت بڑا کارثواب ہے، چونکہ اراضی موقوفہ بندوں کی ملکیت سے نکل کر اللہ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے اسلئے اس میں واقف کی منشاءکے خلاف خرد برد کرنا دین و شریعت کے خلاف تو ہے ہی یہ ملک کے آئین اور دستور کے بھی خلاف ہے جس کو کسی بھی حال میں منظور نہیں کیا جائےگا، ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ بہار اڑیسہ و جھار کھنڈ کے امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے امارت شرعیہ بہار اڑیسہ و جھار کھنڈ کے زیر اہتمام 17نومبر کو منعقد اجلاس عام سے کیا، یہ اجلاس شہر کولکاتا کے آئی ویری گراؤنڈ نونا ٹرام ڈیپو ہوٹل میں ہوا، جس میں شہر کولکاتا کے ہزاروں افراد نے شرکت کی، حضرت امیر شریعت نے اپنے صدارتی خطاب میں مرکزی حکومت کی طرف سے مجوزہ وقف ترمیمی بل پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بل دستور کی متعدد دفعات کے قطعی خلاف ہے، اگر خدا نہ خواستہ یہ بل منظور ہوجاتا ہے تومسلمانوں کی اوقافی جائیدادیں حکومت کی تحویل میں چلی جائیں گی اور یہ ہمیں کسی بھی حال میں منظور نہیں ہے، ہم موقوفہ جائیداوں کے تحفظ کے لئے جد جہد کرتے رہیں گے،
امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھار کھنڈ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے صاحب استطاعت مسلمانوں سے زکوۃ کی ادائیگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مسلمانوں کے اندر سے غربت و افلاس کی شرح کم کرنے میں مدد ملے گی اور ساتھ ہی باہمی تعلقات میں استواری آئی گی، انہوں نے کہا کہ اسلام کے نظام عبادت کی روح وحدت و اجتماعیت پر ہے اس کو ہر حال میں ہم سب باقی اور قائم رکھیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مسلک الگ الگ ضرور ہوسکتا ہے ،لیکن ملت اسلامیہ کے تحفظ کے لیے ہم سب ایک ہیں ، امارت شرعیہ اجتماعی زندگی گزارنے کا درد لے کر آپ کے پاس آئی ہے۔
مشہور ومقبول عالم دین حضرت مولانا قاری فضل الرحمٰن صاحب امام عیدین دھرم تلا کولکاتہ نے کہا کہ ہم امارت شرعیہ کے ساتھ ہیں، حضرت امیرشریعت آگے بڑھیں پورامغربی بنگال ان کی آواز پر لبیک کہنے کو تیار ہے ۔
قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی صاحب نےاسلام کے نظام اور امارت شرعیہ کے نظام قضا کی اہمیت پروروشنی ڈالتے ہوئے تمام مسلمانوں کو اپنے معاملات دارالقضاء سے حل کرانے پر زور دیا۔
قاری شفیق عالم نے کہاکہ ملک کی حددرجہ مضبوط ،قدیم اور معتبر تنظیم امارت شرعیہ ہے جس کی باتوں کو پوراملک مانتاہے ،اور ملک کے مسلمان والہانہ لگاؤ اس ادارہ سے رکھتے ہیں ، اس کی خدمات کی تاریخ طویل ہے اور روشن بھی ہے ، کلکتہ شہر میں جس پیغام کو لے کر امارت شرعیہ آئی ہے ہم اس کے ساتھ ہیں۔
امارت شرعیہ کے نائب قاضی شریعت مفتی وصی احمد قاسمی صاحب نے مسلمانوں کو کلمہ کی بنیاد پر ایک امت اور ایک جماعت بن کر زندگی گزارنے کی تلقین کی، حکومت مغربی بنگال کے ریاستی وزیر جناب غلام ربانی صاحب نے کہا کہ ہماری حکومت وقف ترمیمی بل کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرے گی، جسٹس سعیداللہ منشی نے وقف ترمیمی بل کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل آئین ہند سے میل نہیں کھاتا ہے، مغربی بنگال وقف بورڈ کے سی ای او جناب احسان علی صاحب نے بھی بل کو مسترد کرنے کے متعدد وجوہات بیان کیے ، مولانا قاری محمد شفیق صاحب امام و خطیب ناخدا مسجد زکریا اسٹریٹ نے تفصیل کے ساتھ بل کے نقائص بیان کیے اور کہا کہ مرکزی حکومت اس بل کے ذریعے مسلمانوں کو پریشان کرناچاہتی ہے، اس اجلاس سے حضرت مولانا قاری فضل الرحمان صاحب جناب حاجی شہود عالم صاحب، محترمہ عظمی عالم، مولانا باقی باللہ اور مولانا تاج محمد صاحب نے بھی خطاب کیا اور مسلمانوں سے مل جل کر زندگی گزارنے کی تلقین کی، جناب محمد رافع صدیقی صاحب نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ نظامت کے فرائض امات شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب اور مشہور عالم وخطیب جناب مولانا شفیق عالم قاسمی امام وخطیب جامع مسجد ناخدا زکریااسٹیٹ کولکاتہ نے انجام دیئے اور اخیر میں حضرت امیرشریعت مدظلہ العالی کی دعاء مجلس کااختتام ہوا۔اجلاس کو کامیاب بنانے میں جناب مولانا قاضمیرالدین ، جناب مولانا اکبر صاحب ،جناب مولانا منصف صاحب نے ،جناب مولانا رئیس اعظم صاحب ، جناب مولانا عباس مظاہری صاحب ،جناب مولانا عمران صاحب کے علاوہ اہالیان شہر نے اہم کردار اداکیا۔