جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کا سالانہ اجلاس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر، اجلاس میں ملک بھر سے لاکھوں عقیدت مندوں کی شرکت
مونگیر (پریس ریلیز) 30 نومبر 2025 مدارس اُس تعلیمی مشن کا نام ہے جہاں ملک کے ساڑھے چار فیصد لوگوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا جاتا ہے۔اور ملک کی تعمیر و ترقی میں مدارس نے جو رول ادا کیا ہے اسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی، اللہ کا فضل ہے کہ جامعہ رحمانی بھی ان تعلیمی اداروں میں ہے جس کا مشن ہی تعلیم کا فروغ، اصلاح نفس اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی ہے اور الحمدللہ یہ ادارہ اپنے مشن میں کل بھی کامیاب تھا اور آج بھی کامیاب ہے اور آئندہ بھی رہے گا ان شاءاللہ۔ ان خیالات کا اظہار امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے سالانہ اجلاس دستاربندی کے موقعہ پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
حالات حاضرہ کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وقف ترمیمی قانون پر مدلل روشنی ڈالی اور واضح طور پر فرمایا کہ یہ بل جمہوری تقاضوں کے خلاف اور ظلم پر مبنی ہے اسے کسی بھی صورت میں مسلمان قبول نہیں کرسکتے۔جمہوری ملک میں ہمیں ہر وقت بیدار رہنا ہوگا۔ جمہوریت میں جو قوم بیدار نہیں رہتی اس پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ امارت شرعیہ اور خانقاہ رحمانی سمیت متعدد ملی تنظیموں اور خانقاہوں کی طرف سے مسلسل تحریک جاری ہے ، اور اس قانون کے خلاف اس وقت تک تحریک جاری رہے گی جب تک کہ یہ بل مسترد نہ ہو جائے ۔
اپنے خطاب کے آخری مرحلے میں حضرت امیر شریعت نے علماء و حفاظ ، اور صحافت و افتاء کا کورس مکمل کرنے والے فضلاء کو نصیحت کی جن کے سروں پر دستار باندھی گئی اور سند سے نوازا گیا۔
حضرت امیر شریعت نے ان علماء کرام کو جن کے سروں پر دستار فضیلت باندھی گئی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ فارغین علماء کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انہوں نے جو علم حاصل کیا ہے وہ حق کو پھیلانے اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا ہے لہذا اسی کو اپنی زندگی کا مشن بھی بنانا چاہیے۔ اور اب ان کے لیے زندگی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہے جہاں انہیں ہر حال میں ہمیشہ حصول علم کی طلب کا احساس زندہ رکھنا ہوگا۔
وہ حفاظ جن کے سروں پر دستار باندھی گئی انہیں نصیحت کرتے ہوئے حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ یہ انتہا نہیں ہے۔ یہ تو ایک ابتدا ہے،آگے منزلیں اور بھی ہیں جنہیں آپ حضرات کو طے کرنا ہے اور اپنے اندر کمال پیدا کرنا ہے۔حضرت نے جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت سے عالمیت کے ساتھ ابلاغ عامہ و صحافت کا یک سالہ ڈپلومہ کورس مکمل کر کے سند حاصل کرنے والے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ثقافتیں میڈیا کی زبان میں بنتی ہیں اور تباہ ہو جاتی ہیں۔تہذیب کی جنگ میڈیا کی زبان سے لڑی جا رہی ہے۔ حضرت امیر شریعت نے اپنے خطاب میں جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت کے ایچ او ڈی جناب فضل رحمٰں رحمانی کی جانب سے خانقاہ رحمانی: روشن نقوش، تابناک تاریخ کے عنوان سے پیش کئے گئے پریزینٹیشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس پیشکش میں اے آئی ویڈیوز کا استعمال کر کے 100 برس قدیم ماحول اور کیفیت کا احساس نہیں کرایا جاتا تو جس طرح لوگ اسے دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے وہ نہ ہوتا۔حضرت نے مزید فرمایا کہ ایک سال کا کورس مکمل کر لینا کافی نہیں ہے، اس لائن میں سیکھنے اور برتنے کو بہت سی چیزیں ہیں طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی صحافتی استعددا کو پختہ کریں اور اپنی سیکھی ہوئی چیزوں کو برتتے رہیں۔
جامعہ رحمانی کے ناظم تعلیمات جناب مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری نے اپنے خطاب میں جامعہ رحمانی کی عظیم خدمات کی مختصر مگر جامع جھلکیاں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کی عظیم تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ادارہ علم و عمل اور دین و دنیا کے امتزاج کا ایک مثالی نمونہ ہے۔ یہاں کی ہر صبح تابندہ اور ہر شب زندہ آباد ہے۔انہوں نے یہاں کے تمام شعبہ جات کا مختصر تعارف پیش کیا اور اس کی کارکردگی سے عوام کو با خبر کیا۔
ان کے بعد جامعہ رحمانی کے شیخ الحدیث، حضرت مولانا مفتی محمد اظہر صاحب مظاہری نے علمِ دین اور علماء کی اہمیت پر نہایت پُراثر انداز میں روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم سب کو امام شافعی، امام مالک اور امام بخاری جیسے جلیل القدر ائمہ و محدثین کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ انہی کے راستے کی پیروی ہمارے علم میں جان بھی ڈالتی ہے اور اسے کامل بھی بناتی ہے۔ ان کے بغیر ہمارا علمِ دین نامکمل رہ جاتا ہے۔
امارت شرعیہ کے ناظم جناب مولانا مفتی سعید الرحمٰن قاسمی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ آج مسلمانون کی حالت اس ملک میں بے حد خراب ہے اور اس خرابی کا حل اجتماعیت کے بغیر ممکن نہیں اور امارت شرعیہ قرآن و سنت کی بنیاد پر لوگوں کو اجتماعیت کا جو سبق دیتی ہے وہ دوسری کسی کتاب میں موجود نہیں لہٰذا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امارت شرعیہ کے ساتھ اپنی اجتماعی زندگی کو یقینی بنائیں۔
امارت شرعیہ کے نائب قاضی جناب مولانا مفتی وصی احمد صاحب قاسمی نے اپنے خطاب میں خانقاہ رحمانی اور جامعہ رحمانی کی ہمہ جہت خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں کے سجادگان کی دو خصوصیتیں بہت نمایاں طور پر نظر آتی ہیں جو آپس میں تقریباً متضاد سمجھی جاتی ہیں وہ یہ کہ یہاں کے بزرگوں نے جس طرح خلوت گاہوں کو آباد رکھا اور اوراد و وظائف کا اہتمام رکھا اسی طرح جب میدان میں آنے کی ضرورت پڑی تو پیچھے نہیں رہے۔ تاریخ کے اوراق اس کے گواہ ہیں۔
جامعہ رحمانی کے شعبۂ تخصص فی الافتاء کے انچارج، جناب مولانا مفتی جنید احمد صاحب قاسمی نے فقہ و فتاویٰ کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ آج کل لوگ بے تکلفی سے کوئی بھی مسئلہ بیان کر دیتے ہیں، حالانکہ ہمارے اسلافِ فقہاء کا طریقہ یہ تھا کہ جب ان سے کوئی سوال کیا جاتا تو وہ اکثر نہایت احتیاط کے ساتھ کہتے: “نہیں معلوم”۔ مگر افسوس کہ آج بغیر گہری علمی تحقیق کے فوراً فتوے دیے جا رہے ہیں، جو نہایت نامناسب طرزِ عمل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ فقہ اور فتاویٰ کی عظمت اور حساسیت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مکمل تحقیق و تدبر کے ساتھ ہی کوئی بات کہیں یا لکھیں۔
جامعہ رحمانی کے شعبۂ دارالحکمت کے استاذ، مولانا عبدالعلیم رحمانی ازہری نے دارالحکمت کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وطنِ عزیز میں اس کا نظام اور نصاب اپنی نوعیت کا منفرد نمونہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ واحد ادارہ ہے جہاں تدریس کی مکمل زبان عربی ہے، اور یہی امتیاز ہے کہ ابتدائی درجات سے ہی طلبہ بے تکلفی کے ساتھ عربی میں گفتگو کرنے لگتے ہیں۔ مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اس قیمتی نظام و نصاب کی قدر کرنی چاہیے اور اسے مزید آگے بڑھانے میں سنجیدگی سے حصہ لینا چاہیے۔
جامعہ رحمانی کے موقر استاذِ حدیث و فقہ، مولانا مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی نے اپنے خطاب میں جامعہ رحمانی کی مجموعی کارکردگی، اس کے مختلف شعبہ جات اور تعمیر و ترقی کے جاری مراحل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کی پُراثر گفتگو نے سامعین کو نہ صرف مفید معلومات فراہم کیں بلکہ حاضرین نے ان کے خطاب سے بھرپور لطف بھی اٹھایا۔
جامعہ رحمانی کے استاذ جناب مولانا رضاالرحمٰن صاحب رحمانی نے جامعہ رحمانی کے ایک اہم شعبہ انجمن نادیۃالادب کی خدمات اور کارگزاری پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ اس شعبہ نے اس ملک کو ایک سے ایک خطیب، مصنف، محرر اور محقق دئے ہیں اور اس کی خدمات کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔
جامعہ رحمانی کے ناظم تعلیمات برائے امور طلبہ جناب مولانا محمد خالد صاحب رحمانی نے اپنے خطاب میں یہاں کی علمی و عملی سرگرمیوں کو اجاگر کیا اور سامعین جامعہ رحمانی کے بھر پور تعاون کی اپیل کی ۔
جامعہ رحمانی کے ناظم جناب الحاج مولانا حاجی محمد عارف صاحب رحمانی نے ادارہ کا سالانہ بجٹ پیش کیا اور جامعہ رحمانی کے بہی خواہوں کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا کہ یہ ادارہ محض اللہ کے فضل اور آپ حضرات کی توجہات کے نتیجہ میں کامیابی کے ساتھ اپنی منزلیں طے کر رہا ہے۔
جناب مولانا صبا حیدر صاحب ندوی نے جامعہ کے ایک اور خاص شعبہ معہد الریادۃ کی خصوصیت بیان کی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ وہ شعبہ ہے کہاں علماء کو مختلف علوم و فنون کا ماہر بنایا جاتا ہے اور انہیں عملی میدان کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ شعبہ بہت کم وقت میں طلبہ کو انگریزی زبان بولنے پر دسترس پیدا کراتا ہے۔
رحمانی 30 جہان آباد کے انچارج جناب مولانا محمدطہٰ ندوی صاحب نے رحمانی 30 کی خصوصیات اور کارکردگی پر مفصل روشنی ڈالی ،
علماء کرام کے خطابات کے علاوہ اس موقع پر جامعہ رحمانی کے چند طلبہ نے بھی اپنی باتیں رکھیں ،امارت شرعیہ کی جانب سے پنجاب اور کشمیر جانے والی امدادی ٹیم کی روداد مولوی ابرار الحق نے پیش کی اور وہاں کے حالات سے آگاہ کیا ، جامعہ کے ایک اہم شعبہ عربک میڈیم دار الحکمت کے الصف الخامس کے طالب علم عزیزی امداداللہ سلمہ نے عربی زبان میں تقریر کر کے سامعین و حاضرین کو محظوظ کیا۔ اسی شعبہ کے طالب علم محمد ارمان رحمانی نے انگریزی زبان میں اسلام صلح و سلامتی کا دین کے عنوان پر شاندار خطاب کیا اور سال دوم عربی کے طالب علم عزیزی محمد مہتاب عالم نے بھی عربی زبان جامعہ رحمانی کا شاندار تعارف پیش کیا ،
اس موقعہ پر خصوصیت کے ساتھ جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت نے خانقاہ رحمانی کی عظیم تاریخ اور موجودہ خانقاہ رحمانی کو خوبصورت ویڈیو میں پیش کیا اور اے آئی ویڈیوز کا استعمال کر کے تاریخ کے قدیم ترین مناظر پیش کئے جسے اجتماع میں وال اسکرین پر دکھایا گیا۔ جس سے سامعین و حاضرین کے چہروں پر فرحت و مسرت اور احساسات و جذبات نمایاں طور پر محسوس کیے گئے۔
ویڈیو دکھانے سے قبل جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت کے ایچ او ڈی صحافی جناب فضل رحمٰں رحمانی صاحب نے شعبہ کی کارکردگی بیان کی اور کہا کہ مدارس کے نظام میں پہلی دفعہ طلبہ مدارس نے مین اسٹریم میڈیا کی طرح صحافتی خدمات کا آغاز کیا ہے جس سے ملک کے ہر مسلمان کو جڑنا چاہیے اور طلبہ مدارس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
اس موقع پر جامعہ رحمانی سے فارغ ہونے والے 27 علماء اور 48 حفاظ کے سروں پر دستار باندھی گئی اور شعبہ صحافت کے 6 طلبہ کو سند سے نوازا گیا۔
پروگرام کا آغاز جامعہ رحمانی کے استاذ جناب مولانا قاری وسیم اختر صاحب قاسمی کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا۔ ان کے بعد مشہور نعت خواں جناب مولانا منظر قاسمی رحمانی نے بارگاہ رسالت مآبﷺ میں نعتیہ اشعار پیش کئے۔
جامعہ رحمانی کے مختلف درجات کے طلبا نے جامعہ رحمانی کا ترانہ بہترین انداز میں پیش کیا۔
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں ہر سال سالانہ اجلاس دستاربندی اور دعا کی تقریب کا اہمتام ہوتا ہے جس میں ملک بھر سے لاکھوں فرزندان توحد شریک ہوتے ہیں۔
جامعہ رحمانی کے سالانہ اجلاس کی شاندار نظامت جامعہ کے استاذ جناب مولانا سیف الرحمٰن صاحب ندوی نے بحسن و خوبی انجام دیا۔
اس اجلاس میں مختلف مؤلفین کی تقریباً چھ عدد کتابوں کا اجراء بھی کیا گیا۔
جب کہ اجلاس سے دو روز قبل سے ہی خانقاہ رحمانی کی روایت کے مطابق تلاوت قرآن اور کلمہ و استغفار کے ورد کی مجلسوں کا اہتمام شروع ہو گیا۔اس پروگرام کا انتظام و انصرام جامعہ رحمانی کے استاذ حدیث جناب مولانا مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی اور جناب مولانا عبد الاحد صاحب رحمانی ازہری نے انجام دیا وہیں قرآ ن کی تلاوت اور کلمہ کے ورد کی مختلف مجلسوں میں جناب مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری، جناب مولانا مفتی اظہر صاحب مظاہری، جناب مولانا مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی، مولانا کبیر الدین صاحب رحمانی، مفتی محمد اعجاز صاحب رحمانی، مولانا جمال اکبر صاحب،اور جناب مولانا عبدالاحد صاحب رحمانی ازہری نے اپنے پر مغز خطاب سے سامعین کو مستفیض کیا۔
اس موقع پر خصوصیت کے ساتھ قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری، حضرت مولانا لطف اللہ صاحب رحمانی، امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ صاحب رحمانی اور امیر شریعت سابع حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی رحمہم اللہ کے بلندی درجات، مسلمانوں کے تحفظ اور ملک کے امن و تحفظ کیلئے خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے خصوصیت کے ساتھ دعا کی جس میں خانقاہ رحمانی کے مریدین ، مخلصین اور محبین نے بڑی تعداد میں شرکت کیں۔
واضح رہے کہ اس موقعہ پر ہزاروں ہزار عقیدت مند خانقاہ رحمانی سے روحانی فیض پاکر واپس جاتے ہیں اور جن باتوں کی ہدایت انہیں دی جاتی ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔