خانقاہ رحمانی ایک مسلسل ہمہ جہت تحریک ہے جس کے دامن میں دعوت و عزیمت اور خدمت و قربانی کی سوا سو سالہ روشن تاریخ جذب ہے۔جس میں دینی سیاسی اور سماجی ہر طرح کی ٰخدمت شامل رہی ہے۔ یہاں کے اکابر نے اپنے اپنے دور میں خانقاہی نظام کو نئی جہت اور آفاقی وسعت عطا کی ہے۔جس کی نظیر خانقاہی تاریخ میں کم نظر آتی ہے۔ اسی لیے بجاطور پر خانقاہ رحمانی کو زندہ خانقاہ کہاجاتاہے-
سنہ 1901 میں خانقاہ رحمانی کا قیام ہندوستان کی ریاست بہار کے تاریخی شہر مونگیر کی سرزمین پر عمل میں آیا۔
سنہ 1906 میں مونگیر اور بہار کے دیگر اضلاع میں تیزی سے پھیلنے والی قادیانیت کے خلاف عظیم الشان مناظرہ کا انعقاد ہوا جس میں پورے ملک سے 40 نامور علماء کرام نے شرکت فرمائی، حضرت مولانا محمد علی مونگیری نے قادیانیت کی ایسی سرکوبی کی کہ اس کا اثر و رسوخ ہمیشہ کے لیے یہاں سے ختم ہو گیا۔
سنہ 1922 میں ملک کی سالمیت اور آزادی کی تحریک کے تحت پہلی بار بابائے قوم مہاتما گاندھی کی خانقاہ رحمانی آمد ہوئی اور پھر 1934 میں دوبارہ گاندھی جی خانقاہ رحمانی وارد ہوئے۔ادب و احترام اور عقیدت کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے خانقاہ رحمانی کے صدر دروازے ہی پر اپنا کھڑاون اتار دیا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر حضرت مونگیریؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اس موقع کی ایک دلچسپ یادگار یہ ہے کہ گاندھی جی نے مذہب اسلام بالخصوص دور فاروقی کی خوبیاں بیان کیں۔جس پر حضرت مونگیری نے برجستہ ان سے سوال پوچھ لیا کہ اس کے باوجود آپ نے اسلام قبول کیوں نہیں کیا۔
سنہ 1927ء میں باقاعدہ دینی تعلیم کے لیے حضرت مونگیریؒ ہی کے دست اقدس سے جامعہ رحمانی کا قیام عمل میں آیاتاکہ ایک طرف طلبہ علوم دینیہ سے سرفراز ہوں، دوسری طرف قلوب کی تطہیر کا عمل بھی جاری رہے،اسی سال جامعہ رحمانی کا ترجمان ماہنامہ الجامعہ جاری ہوا جو اپنے زمانہ کا سب سے مشہور، منفرد دینی،اصلاحی اور سیاسی رسالہ ہوا کرتا تھا۔
اسی سال حضرت مونگیری کا وصال ہوا اور ان کے بڑے صاحبزادہ حضرت مولانا لطف اللہ صاحب رحمانیؒ دوسرے سجادہ نشیں مقرر کئے گئے۔جنہوں نے خانقاہی نظام کو مستحکم کیا اور اصلاح و ارشاد کی خدمت کو فروغ دیا۔
سنہ 1942ء میں حضرت مولانا لطف اللہ صاحب رحمانیؒ کے وصال کے بعد حضرت مونگیریؒ کے چھوٹے صاحبزادے حضرت مولانا منت اللہ صاحب رحمانیؒ خانقاہ رحمانی کے تیسرے سجادہ نشیں مقرر ہوئے اور اسی سال حضرت نے جامعہ رحمانی کی نشاۃ ثانیہ فرمائی۔
حضرت مولاناؒ عہد طالب علمی میں ہی تحریک آزادی میں شامل ہو گئے تھے۔جب حضرت شیخ الاسلام مولاناحسین احمد مدنی کی گرفتاری پر عوامی بے چینی پیدا ہوئی تو آپ نےچاندنی چوک دہلی سے ایک منظم عظیم الشان جلوس کی قیادت فرمائی۔جس کے نتیجہ میں آپ زخمی ہوئے۔گرفتار کئے گئے اور ایک ہفتہ تک دہلی کوتوالی میں زیر حراست رہے۔پھر جمیعت العلماء کے زیر اہتمام جب سول نافرمانی کی تحریک پورے ملک میں چلائی گئی تو ضلع سہارنپور کا ڈکٹیٹر آپ کو نامزد کیا گیا اور آپ نے اس تحریک میں ایسی روح پھونکی کہ یہ تحریک ملکی سطح پر زندہ نظر آنے لگی،نتیجہ یہ ہوا کہ آپ حکومت کی نظر میں آئے اور گرفتار کر لئے گئے۔چار ماہ تک قید و بند کی سخت سزا جھیلنے کے بعد جیل سے رہائی ہوئی۔
سنہ 1956 میں حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے امیر شریعت منتخب ہوئے اور انہی کے عہد میں امارت شرعیہ نے اپنی موجودہ وسعت اختیار کی اور عالمی سطح پر اس کی عظمت واہمیت محسوس کی گئی۔
سنہ 1954 میں مدارس کے نظام اور نصاب پر تبادلہ خیال کے لیے حضرت ہی کی دعوت پر ماہرین تعلیم کا خانقاہ رحمانی میں اجتماع ہوا اور نصاب تعلیم کی جدید ترتیب عمل میں آئی۔
سنہ 1966 میں دورہ حدیث کا افتتاح ہوا اور اسی سال خانقاہ رحمانی کی موجودہ مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔
سنہ 1972ء میں حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ کی تحریک پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا کنونشن ممبئی میں منعقد ہوا اور 3 مئی 1973ء کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام عمل میں آیا جس کے پہلے جنرل سکریٹری خانقاہ رحمانی کے تیسرے سجادہ نشیں حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ ہی کو منتخب کیا گیا۔
10اکتوبر 1983کو اس وقت کے لیڈر آف اپوزیشن آنجہانی راجیو گاندھی نے وزیر اعلیٰ بہار کے ساتھ خانقاہ رحمانی میں نیازمندانہ حاضری دی اورحضرت امیر شریعت رابعؒ کی ملک کی آزادی کے لیے قربانیوں اور جدوجہد کو سراہا اور ان سے دعائیں لیں۔
8 مارچ 1986ء کو خانقاہ رحمانی میں تدوین قانون اسلامی کے دفتر کا قیام عمل میں آیا جس کے تحت ملک کے ممتاز مفتیان کرام کی نگرانی میں اسلامی قانون متعلق مسلم پرسنل لا نامی کتاب شائع ہوئی۔
سنہ 1991 میں حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ کے انتقال کے بعد حضرت کے چھوٹے صاحبزادہ مفکر اسلام مولانا محمد ولی صاحب رحمانیؒ خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں مقرر ہوئے۔
سنہ1991میں ہی ایک بار پھر راجیو گاندھی اپنے صاحبزادہ راہل گاندھی کے ساتھ حضرت امیر شریعت رابعؒ کے انتقال کے بعدخراج عقیدت پیش کرنے دوبارہ خانقاہ رحمانی پہنچے اور حضرت کے مزار کا درشن کیا۔
3مئی 1992کوجامعہ رحمانی کی تعلیمی ضرورتوں کے پیش نظر تعلیم گاہ کی بنیاد رکھی گئی۔فروری 2002میں مدارس اسلامیہ کو دہشت گردی کا اڈا قرار دیئے جانے پر ناموس مدارس اسلامیہ کنوشن اسی خانقاہ رحمانی میں منعقد ہوا۔
31مئی،2003 کو خانقاہ رحمانی میں عظیم سائنسدان،صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی عقیدت مندانہ آمد ہوئی اور انہیں کے ہاتھوں تعلیم گاہ کا افتتاح عمل میں آیا۔
یکم اوردو مارچ 2003کوخانقاہ رحمانی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا 17واں کل ہند اجلاس منعقد ہوا جس میں ملکی حالات کے پیش نظر اہم فیصلے لئے گئے۔
2003میں ہی حضرت مولانامحمد ولی رحمانی صاحب کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا کل ہند کنوینر منتخب کیا گیا، جس کے بعد آپ نے ملکی سطح پر اصلاح معاشرہ کی منظم تحریک چلائی-
2013میں جب وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش ہونا تھا، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے اس وقت کی حکومت سے اس بل میں مفید دفعات شامل کرائیں جس کی بنیاد پر یہ ایکٹ مضبوط ہوسکا، اسی طرح آرٹی ای ایکٹ میں آپ نے مدارس کا استثنی کرایا، یہی وجہ ہے کہ آرٹی ای ایکٹ کی آڑ میں قانونی زد سے مدارس اسلامیہ ابھی تک محفوظ ہیں-
جب مرکزی مدرسہ بورڈ کا شوشہ چھوڑ کر مدارس اسلامیہ کو محصور کرنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی تو آپ نے جم کر اس کی مخالفت کی اور یہ تجویز ٹھنڈے بستے میں چلی گئی-اس طرح تحفظ مدارس کے لیے خانقاہ رحمانی کی خدمات سنہرے حروف سے ہمیشہ ہمیش کے لئے رقم ہو گئی-
حضرت امیرشریعت سابع رحمہ اللہ نے اسی مونگیر کی سرزمین پر رحمانی فاؤنڈیشن کا قیام فرمایا جس میں مختلف اہم کورسوں کے ساتھ 2014سے ہی بی ایڈ کی تعلیم کا نظم ہے-اور تعلیمی وسماجی خدمات کے باب میں یہ ادارہ اپنی پہچان بناچکاہے-اسی رحمانی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام رحمانی اسکول آف ایکسلنس کی بنیاد رکھی گئی اور یہ ادارہ بھی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔
سن 2008میں خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں اور عظیم ملی قائد وماہرتعلیم حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے آئی آئی ٹی،میڈیکل اداروں اورمختلف مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لیے رحمانی ٣٠ قائم فرمایا، جس نے ہر برس ترقی کی نئی منزل حاصل کی، اس ادارہ نے مسلم نوجوانوں میں زبردست تعلیمی تحریک پیدا کی اور اس کے حوصلہ افزا نتائج مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوئے،ایسے دور میں جب مسلمان تعلیم میں پسماندہ ہیں،یہ ادارہ مسلم نوجوانوں کے لیے موسم خزاں میں بھی نئے برگ وبارکے ساتھ شجرسایہ دار کی حیثیت رکھتاہے-
سنہ 2008 میں مزید تعلیمی ضرورتوں کے پیش نظرحضرت امیرشریعت سابع مفکراسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نےدانشگاہ کی بنیاد رکھی۔جس میں عربی درجات کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دارالحکمت نامی منفرد اور مثالی نظام تعلیم کی بنیاد3مارچ،2012کو رکھی گئی، اسی وقت سے یہ شعبہ سرگرم عمل ہے۔
سنہ 2011 میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نےعارف کدہ کی بنیاد رکھی ۔جس میں اس وقت نئے شعبے اور طلبہ کی رہائش کا نظم ہے۔
سنہ 2020 میں جدید مطبخ کی عمارت کی بنیاد رکھی گئی اور 2021 میں حضرت امیر شریعت سابع مولانا محمد ولی صاحب رحمانیؒ کے وصال کے بعد ان کے بڑے صاحب زادہ حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں مقرر کئے گئے اور ان کے ہاتھوں جدید مطبخ کی عمارت کا افتتاح ہوا اور اسی سال مزید تعلیمی اور تربیتی ضرورت کے تحت ولی کدہ کی بنیاد رکھی گئی۔
خانقاہ رحمانی کے موجودہ سجادہ نشیں اور امیر شریعت بہار، اڈیشہ جھارکھنڈ و مغربی بنگال حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے تعلیمی میدان میں ترقی اور استحکام کے لیے اپنے ماتحت اداروں میں منظم تعلیمی تحریک چلائی۔قدیم مکتب ولی کے نظام کو فعال بنایا۔ مدرسہ محمدیہ سپول اور رحمانیہ سپول دربھنگہ میں دارالحکمت کے نئے شعبے قائم کئے، اصلاح معاشرہ کی تحریک جو خانقاہ رحمانی سے مضبوطی کے ساتھ مسلسل جاری ہےاس کے تحت دور دراز کا سفر کر کے سیکڑوں مقامات پر دعوتی و اصلاحی اجلاس عام کا انعقاد کرایا اور اپنا اصول اپنے مریدین و متوسلین کے سامنے وضع کیا کہ فضول خرچی یا جہیز لی گئی شادیوں کی دعوت قبول نہیں کرتے اور نہ ہی ایسی شادیوں میں شریک ہوتے ہیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بینر تلے یونیفارم سول کوڈ اور وقف ترمیمی بل کے خلاف مضبوط اور موثر تحریک چلائی جس میں کروڑوں لوگوں کے احتجاجی میل کی ترسیل شامل ہے۔خانقاہی روایات مثلاً بیعت و ارشاد، سالانہ اجلاس و مجلس ایصال ثواب، مجلس درود شریف اور اجتماعی اعتکاف کے سلسلہ کو عظمت و اہتمام کے ساتھ آگے بڑھایا۔
نیز 2021میں شعبہ صحافت کا قیام بھی عمل میں آیا۔
سنہ 27جون 2022 کو شعبہ تخصص فی الافتاء قائم ہوا اور اسی سال معہد الریادۃ کا قیام بھی عمل میں آیا۔یہ نئے شعبے اپنی مثال آپ ہیں اور مسلسل طلبہ کو ایک نئی تعلیمی جہت بخشنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔
موجودہ امیر شریعت اور خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں کا ممتاز اور ملکی سطح پر مشہور ایک تازہ کارنامہ یہ ہے کہ:
جب سے وقف ترمیمی بل کا مسئلہ اٹھا ہے تبھی سے آپ کی قیادت میں امارت شرعیہ اور خانقاہ رحمانی مونگیر اس بل کو یکسر مسترد کرنے کی جدو جہد میں ہمہ تن مصروف ہے۔ سب سے پہلے جب جے پی سی نے وقف ترمیمی بل پر عوامی رائے طلب کی تو امارت شرعیہ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے لیے جے پی سی کو بذریعہ ای میل رائے بھیجنے کا مکمل نظام تیار کر کے دیا جس کے ذیعہ 3 کروڑ 65 لاکھ 7ہزار 963 رائے جے پی سی کو بھیجی گئی۔ اس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران سے ملاقات اور انہیں مفصل و مدلل میمورینڈم پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جس کا حکومت پر نمایاں اثر ظاہر ہوا۔ پھر پٹنہ کے باپو سبھا گار آڈیٹوریم میں ایک عظیم الشان تحفظ اوقاف کانفرنس کاانعقادکیا گیا جس میں بہار، اڈیشہ، جھاکھنڈ و مغربی بنگال کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی خواص نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اور وقف ترمیمی بل کے خلاف اپنی للکار کے ذریعہ مضبوط احتجاج درج کرایا۔ اس مہم کو ڈی ایم سے سی ایم و پی ایم تک رائے پہنچانے اور بل کے خلاف مضبوط احتجاج درج کرانے کے لیے حضرت امیر شریعت نے بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے تمام قضاۃ کو ہدایت دی کہ وہ اپنے علاقہ کے ڈی ایم سے ملاقات کریں،انہیں آئینی نقطہ نظر کے ساتھ بل کے نقصانات سے آگاہ کریں اور میمورینڈم پیش کریں۔دوسری طرف حضرت امیر شریعت نے خود مختلف ملی جماعتوں کے ذمہ داران کے ساتھ جے پی سی کے چیئرمین و ممبران سے ملاقات کرکے بل کی خرابیوں و خامیوں کی دو ٹوک انداز میں نشاندہی کی۔وقف بیداری مہم کو پنچایتوں اور گاؤں گاؤں تک پہونچانے کیلئے ورکشاپ کا سلسلہ شروع ہوا جس میں حضرت امیر شریعت نے کئی شہروں جیسے بینگلور، حیدرآباد، کولکاتہ، رانچی وغیرہ کے اسفار کئے اور بڑی تعداد میں مخلتف طبقات سے وابستہ افراد کو جمع کر کے وقف ترمیمی بل پر اپنا تحقیقی پریزینٹیشن پیش کیا اور انہیں بل کے منفی نکات و مضمرات سے آگاہ کیا،ساتھ ہی انہیں ذمہ داری دی کہ وہ اپنے علاقے کی مساجد میں ورکشاپ منعقد کر کے ہر فرد کو اس سے باخبر کریں۔ یہ سلسلہ خاص طور پر اس طرح بھی جاری رہا کہ امارت شرعیہ اور خانقاہ رحمانی میں مختلف نشستوں میں، علماء، ائمہ، قضاۃ، مختلف خانقاہوں کے سجادگان، مختلف مکاتب فکر کے ذمہ داران اور لیڈران کو جمع کر کے متعدد عظیم الشان ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا اور تمام شرکاء کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس آواز اور پیغام کو ہر ہر گھر اور ہر ہر فرد تک پہنچائیں تاکہ تحفظ اوقاف کا مسئلہ امت کا اجتماعی اور ضروری مسئلہ بن کر سب کے سامنے آ جائے۔ جس کا شاندار مظاہرہ ۲۹ جون کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں وقت ترمیمی قانون کے خلاف عظیم الشان احتجاجی اجلاس میں ہوا۔ جس میں حزب اختلاف کے بڑے رہنماؤں کے ساتھ ملک کی ملی جماعتوں کے سربراہان جمع ہوئے اور سبھوں نے وقف ترمیمی قانون کو یکسر مسترد کرنے کاپرزور مطالبہ کیا۔
22 اگست سنہ 2025 کو مرکز میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی چند اپوزیشن لیڈرس کے ساتھ خانقاہ رحمانی پہنچے اور حضرت امیر شریعت سے ملک کے موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کیا اور خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں سے اپنے خاندانی تعلقات کا اظہار کیا۔
یوں تو خانقاہ رحمانی کی خدمات اتنی وسیع ہیں کہ مفصل تاریخ کے لیے دفتر چاہیے، ابھی صرف پیش کی گئی ہیں خانقاہ رحمانی کی روشن تاریخ کی مختصر جھلیاں،جن سے مفصل پرسرسری روشنی پڑتی ہے اور ادارہ کے تئیں عقیدت و احترام میں اضافہ ہوتا ہے۔اس طرح خدمت دین وملت کا تسلسل اورخانقاہ رحمانی کا فیضان جاری و ساری ہے، دین متین کے تحفظ یہ کارواں میر کارواں کی رہنمائی میں عازم سفر ہے، ہم کہہ سکتے ہیں:
ایں خانہ ہمہ آفتاب است!