مضمون نگار: جناب ولی رحمانی *ماہر قانون *بانی امید گلوبل انٹرنیشنل اسکول
مضمون کی زبان: انگریزی
ترجمہ: فکر و نظر ٹی وی
بھارتی مسلمانوں کیلئے قیادت کا انتخاب مشکل، آپشن محدود
وقت کے بافیض اور دور اندیش عالم دین اور خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں حضرت مولانا منت اللہ صاحب رحمانی نوراللہ مرقدہ نے 1973 میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام میں کلیدی رول ادا کیا اور خانقاہ رحمانی مونگیر بہار کی روحانی فضا میں بورڈ کا پہلا دفتر قائم ہوا۔ ان کی بصیرت افروز قیادت میں، بورڈ نے ایک عہد ساز تبدیلی کا آغاز کیا، جس نے بھارتی مسلمانوں کی روزمرہ زندگی اور معاملات کو حل کرنے کی نئی سمت دی۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور بہار کے رحمانی خاندان کے درمیان گہرا رشتہ اس کے ورثے کا ایک اہم سنگ میل رہا ہے۔ تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر خانقاہ رحمانی کے باوقار سجادہ نشین کا بورڈ کی سکریٹری شپ سے استعفی دینا اس تاریخی تعلق کا انتہائی سنگین دور ہے۔
اس کے باوجود یہ قابل غور مرحلہ اور نازک معاملہ ہے کہ حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے بورڈ کی سکریٹری شپ کے انتہائی با اثر عہدہ، جس کی بہت سے لوگ زندگی بھر تمنا کرتے ہیں اس سے استعفی کیوں دیا؟
کوئی بھی سمجھدار رہنما موجودہ حالات میں، جہاں بھارتی مسلمان غربت اور پسماندگی کے مسائل سے دوچار ہیں، ایسے بیانات برداشت نہیں کرے گا جو ان کی اخلاص اور ملت کی بھلائی کے لیے کی جانے والی خدمات کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف ان کی اوورسیز سٹیزن شپ (OCI) پر سوال اٹھائیں۔ ایسے بیانات ان کی خدمات کی توہین کے ساتھ ساتھ امت کے اتحاد اور ترقی کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
بالخصوص اس وقت جب ملک کا قانون، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا ڈیڈ اور حکومت انہیں کسی بھی غیر منافع بخش تنظیم میں خدمات انجام دینے اور غیر منافع بخش ادارہ کے ایگزیکٹو کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
چند افراد بری نیت کے ساتھ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو ایک سرکاری اور منافع بخش ادارہ کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں دانستہ طور پر یہ فکری غلطی نہ صرف امت مسلمہ کو گمراہ کر رہی ہے جس سے یقیناً اس رہنمائی کا فقدان ہو جائے گا جو اصل اور سچی قیادت سے حاصل ہو سکتی ہے۔ملت کی فکر رکھنے والے مسلمانوں کو ان کوششوں کو محسوس کر کے ان کا پوری مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے، کیونکہ ان کوششوں کا تعلق زیادہ تر ذاتی مفادات سے ہے، جو بھارتی مسلمانوں کے پیار، ہم آہنگی اور روحانیت سے بھرپور سرزمین کی قدیم میراث کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا:
<<<ﯾﺎ أﯾﮭﺎ اﻟذﯾن آﻣﻧوا إن ﺟﺎءﻛم ﻓﺎﺳق ﺑﻧﺑﺄ ﻓﺗﺑﯾﻧوا أن ﺗﺻﯾﺑوا ﻗوﻣﺎ ﺑﺟﮭﺎﻟﺔ ﻓﺗﺻﺑﺣوا ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﻓﻌﻠﺗم ﻧﺎدﻣﯾن>>>
اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ.
حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی بحیثیت امیر شریعت بہار، جھارکھنڈ، اڈیشہ و مغربی بنگال (کچھ حصے) قیادت نے امت مسلمہ میں موجود قیادت کے اہم خلا کو پُر کیا ہے۔ اگرچہ دیگر بہت سے معزز علماء کرام نے اس سمت میں قابل ستائش خدمات انجام دی ہیں، لیکن امت مسلمہ کی ترقی کے لیے موجودہ دور میں جس طرح کی مؤثر اور انقلابی اقدامات و صلاحیت کی فوری ضرورت ہے اس میں اور جو موجودہ وقت میں بہت سی تنظیموں کی قیادت جس طرح کام کر رہی ہے ان دونوں میں تضاد ہے۔
حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب بحیثیت سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نےیو سی سی اور وقف ترمیمی بل 2024 کے تعلق سے دور اندیشی اور حکمت عملی کے ساتھ جو خدمات انجام دی ہیں وہ ایک بیدار قیادت کی انوکھی مثال ہے۔ اسی طرح وہ بحیثیت امیر شریعت و بحیثیت سجادہ نشیں بے شمار ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ان کی قیادت میں، امارت شرعیہ نے ہندوستانی مسلمانوں کو آئینی حقوق کا خاطر خواہ استعمال کرتے ہوئے مذہبی، قانونی، اور سماجی مسائل کو حل کرنے کا سلیقہ سکھایا ہے۔
بھارت میں اہلیت رکھنے والی شخصیتیں اسلامی تنظیموں کی قیادت کیوں نہ کریں؟
کیا او سی آئی اسٹیٹس قیادت کیلئے قانونی رکاوٹ ہے؟
بھارتی مسلمانوں کے اصل مسائل کیا ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے کن شخصیات پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ آئیے ایمانداری سے ان سوالات کا دستور ہند کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔
1۔ قانونی اور آئینی دائرہ کار:
شہریت ایکٹ 1955 واضح طور پر اوورسیز سٹیزن آف انڈیا ہولڈرز کو این پی اوز اور دیگر مرکزی سرکاری اداروں جیسے IISERs، IITs، IISc، AIIMSs اور سینٹرل یونیورسٹیز میں کام کرنے اور فرائض انجام دینے کی اجازت دیتا ہے۔ OCI/PIO ہولڈرز جن کے کارڈز کی تاریخ 03.03.2021 یا اس سے پہلے کی ہے، انہیں سرکاری میڈیکل اور انجینئرنگ سیٹوں کے لیے بھارتی شہریوں کے برابر سمجھا جاتا ہے (سپریم کورٹ کا WP(Civil) 891/2021)۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت رجسٹرڈ ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قواعد و ضوابط کی شق فائو اے سے فائو سی بورڈ کے قوانین میں مختلف مکاتب فکر کے اراکین پر مشتمل بورڈ کی تشکیل کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ اصول و ضوابط رکنیت کی اقسام کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کرتے۔
ایک کیس لا کے مطالعہ سے بھی اس طرح کے ایک معاملہ کی وضاحت ہوتی ہے۔ سنہ 2018 میں، انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل کے SCC Online ITAT 17108 کیس میں، زیادہ تر ٹرسٹیز (5 میں سے 4) بھارت سے باہر رہائش پذیر تھے جبکہ صرف ایک ٹرسٹی بھارتی شہری اور بھارت کا رہائشی تھا۔ اس کے باوجود (چار ٹرسٹیز OCI شہری بھی نہیں تھے)، اپیلیٹ ٹریبونل نے ٹرسٹ کی درستگی کے حق میں فیصلہ دیا۔
اوورسیز سٹیزن آف انڈیا کو روایتی طور پر غیر ملکی تصور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بعد میں کی گئی قانونی مداخلت کے باعث اوورسیز سٹیزن آف انڈیا کا تصور “غیر ملکی” سے مختلف ہے جیسا کہ فارنرز ایکٹ 1946 میں بیان کیا گیا ہے۔ کوئی ایسا قانون موجود نہیں ہے جو “غیر منافع بخش تنظیموں” کے حوالے سے غیر ملکی، این آر آئی، او سی آئی اور پی آئی او کو کسی سوسائٹی یا کمپنی جو سیکشن 8 آف دی کمپنیز ایکٹ 2013 کے تحت رجسٹرڈ ہو، کی گورننگ باڈی میں شامل کرنے کے حوالے سے خصوصی شقیں فراہم کرتا ہو۔
لہٰذا ایف سی آر اے( FCRA) (فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ، 2010) کسی غیر ملکی شہری کو جو بھارتی نژاد ہو، کو سوسائٹی/ٹرسٹ کی گورننگ باڈی کا حصہ بننے سے نہیں روکتا جو اس کے تحت رجسٹریشن کی درخواست دے رہا ہو۔ نیچے وزارت داخلہ کی طرف سے شائع کردہ متعلقہ FAQ دی جا رہی ہے۔
سوال: “کیا غیر ملکیوں کو جو رجسٹریشن یا اس سے پہلے اجازت کی درخواست کر رہا ہو ایسو سی ایشن کے ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کے طور پر نامزد کیا جا سکتا ہے ؟
جواب: ایسی تنظیموں کو جن میں غیر بھارتی نژاد غیر ملکی اپنے ایگزیکٹو کمیٹی یا گورننگ باڈی کے ارکان کے طور پر شامل ہوں، عام طور پر غیر ملکی امداد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔”
واضح طور پر، آئینی دفعہ جس کے تحت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تشکیل ہوئی (سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860) اور انڈین ٹرسٹ ایکٹ 1882، بورڈ کے اصول و ضوابط (شق 5)، انکم ٹیکس ٹریبونل، شہریت ایکٹ 1955 اور اس میں 2004 میں کی جانے والی ترمیم اور بھارتی حکومت کی بعد کی ہدایات اور ایف سی آر اے 2010 سے متعلق قوانین میں بھارتی شہری اور اوورسیز سٹیزن آف انڈیا میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے جس سے کہ او سی آئی اسٹیٹس حامل کسی بھی شخص کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ذمہ داریاں تفویض کرنے میں کوئی دشواری ہو۔
چونکہ قانونی اور آئینی اصول ایسی تقرری کی اجازت دیتے ہیں، متعدد معروف ٹرسٹس، IITs، IISERs، AIIMSs اور IISc اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں تاکہ اپنے قومی ترقی میں حصہ داری کو فروغ ملے۔ پروفیسر منجل بھارگوا، جو او سی آئی اسٹیٹس کی حامل امریکی شہری ہیں جو NEP کمیٹی کے ایک اہم رکن اور اور بڑے معاون رہے ہیں۔انہوں نے تاریخی، تعلیمی پالیسی 2020 کی ڈرافٹنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ او سی آئی اسٹیٹس حامل سدھارتھ وردراجن جو The Wire کے شریک بانی اور The Hindu کے ایڈیٹر کے طور پر صحافتی خدمات انجام دی ہیں۔ اگرچہ وہ امریکی شہری ہیں، لیکن ان کی صحافتی خدمات اور اس سمت میں ان کے عزائم غیر معمولی ہیں۔ OCI ہولڈرز کے ٹرسٹس اور حکومت کے اداروں میں ایگزیکٹو عہدوں پر فائز ہونے کی بے شمار مثالیں ہیں لیکن مضمون کو اختصار کے ساتھ پیش کرنے کے تقاضہ کی وجہ سے انہیں مثالوں پر اکتفا کر رہا ہوں۔ ہم بھارتی مسلمانوں کو بھی اس کا فائدہ اٹھا کر معاشرتی و قومی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔
2۔ بھارتی مسلمانوں کی نمائندگی:
حضرت امیرِ شریعت کا تعلق خانوادہ اہل بیت سے ہے۔ اس سلسلہ رحمانیہ کا فیض حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کے زمانہ سے جاری و ساری ہے ۔ اس خاندان کی خاص طور پر تین نسلوں کی خدمات بھارتی مسلمانوں نے دیکھی اور دستاویزی طور پر محفوظ کی ہیں۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے بانی ہونے سے لے کر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بانی، اور رحمانی 30 کے عظیم آغاز و اقدام تک جہاں کے فارغین اور تربیت یافتہ لوگوں نے علم اور موجودہ معاشرتی ضرورتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا، یہ مونگیری خاندان امت مسلمہ کے لیے دنیا و آخرت میں ہمیشہ سرخروئی کا سبب رہا ہے۔
حضرت مولانا نےاپنے والد ماجد ، مخدوم گرامی قدر حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانیؒ کے انقلابی نظریہ کے سچے جاںنشیں کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ یہ وژن رحمانی 30 کے طور پر پوری دنیا میں روز روشن کی طرح عیاں اپنے عظیم خدمات کی منہ بولتی تصویر ہے۔پیشہ ورانہ مہارات اور اس سے مضبوط رشتہ وقت کی اشد اور اہم ضرورت ہے۔
قومی سطح پر اس ادارہ نے امت کا سر فخر کے ساتھ اونچا رکھا ہے، جس نے 1055 جے ای ای مینس، 366 جے ای ای ایڈوانس، 3 آئی ایس آئی (انڈین سٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ) اور اسی طرح نیٹ، سی اے/سی ایس میں شاندار نتائج کے ساتھ قوم کے ہونہاروں کو ایک کامیاب پیشہ ورانہ زندگی بخشی ہے —جو اس کی غیر معمولی کامیابی کا پختہ ثبوت ہے۔ یہ محض ایک تعلیمی اقدام نہیں بلکہ دین اور دنیا کی ایک نایاب ہم آہنگی کا منفرد امتزاج ہے جو بھارتی مسلمانوں کو روحانیت اور پیشہ ورانہ کامیابی دونوں میں کامیاب بنانے کی قوت فراہم کرتی ہے، اور یہ سب دینی اقدار یا معیاری تعلیم کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ کیے بغیر حاصل ہوا ہے۔ رحمانی 30 آزاد ہندوستان میں امید اور کامیابی کا ایک روشن مینار بن کر کھڑا ہے۔ یہ ایک ایسی وراثت ہے جو قوم کو بے مثال قوت فراہم کرنے کے عزم میں بے نظیر ہے۔
امارتِ شرعیہ اور خانقاہ رحمانی اور اس سے منسلک تمام تعلیمی اداروں کی ذمہ داری سمبھالنے کے بعد حضرت مولانا نے اپنے والد حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانیؒ کی جانب سے کی گئی تمام تعلیمی اصلاحات کو فروغ بخشا ہے۔ انہوں نے امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پومونا میں ایک اسلامی اسکول کامیابی سے چلایا اور اپنے تجربات کو رحمانی اسکول آف ایکسیلنس، مونگیر، بہار میں عمل میں لایا۔
حضرت مولانا نے وقف ترمیمی بل پر انتہائی شاندار مفصل و مدلل قانونی نقطہ نظر پیش کیا ہے۔انہوں نے جس صاف ستھرے اور آسان انداز میں امت مسلمہ کے سامنے بل کے منفی نکات کو پیش کیا ہے وہ ایک غیر معمولی کوشش ہے۔ حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کا ملت کو طاقتور بنانے اور ترقی بخشنے میں بے شمار تعاون ہے جن میں سب کا ذکر کرنا نا ممکن ہے۔
3۔ امت کے جذبات اور اعتماد:
حضرت امیر شریعت نہ صرف انتظامی امور کے ماہر ہیں بلکہ ان کی شخصیت روحانی طور پر، قانونی طور پر اور شخصی طور پر متصف اور بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ میں نے ذاتی طور پر حضرت سے وقف ترمیمی بل پر استفسار کیا جس پر انہوں نے میرے سامنے اس حکمت عملی کی تفصیلات پیش کی جس میکانزم کو انہوں نے بڑی جانفشانی کے ساتھ دستور کے حوالوں کے ساتھ مدلل انداز میں مرتب کیا ہے۔ حضرت امیر شریعت کی قیادت میں ان کی ٹیم نے وقف ترمیمی بل کے خلاف لوگوں کی رائے بذریعہ میل بھیجنے کا ایک ایسا منظم نظام قائم کیا جس کے ذریعہ 3.66 کروڑ ای میلز جے پی سی تک صرف بورڈ کے اس سسٹم کے ذریعہ بھیجے گئے۔اس پر سوال کیا گیا تو انہوں نے سادگی سے صرف اتنا کہا کہ “میں نے یہ اللہ کی رضا کے لیے کیا۔”
حضرت فناء فی اللہ کا سچا نمونہ ہیں۔
“مخلصین ہدایت کے چراغ ہیں” – (بیہقی)
ایک شخص کی روحانیت نہ تو ہاتھوں سے لکھی جا سکتی ہے اور نہ آنکھوں سے پڑھی جا سکتی ہے، بلکہ یہ دلوں میں اس کی موجودگی کے ذریعے محسوس کی جاتی ہے۔ کیا کوئی ہے جن پر ان سے زیادہ اعتماد کیا جا سکے یا ان کی قدر کی جائے جو اپنی منفرد اور نا قابل فراموش خدمات کے باوجود کسی بھی قسم کے نام و نمود کی خواہش نہیں رکھتا؟
4۔ان کا پیشہ ورانہ پس منظر اوراسکی اہمیت:
حضرت امیرِ شریعت کا پیشہ ورانہ پس منظر امت مسلمہ کے تعلیم یافتہ طبقوں میں بھی بیش قیمت اہمیت رکھتا ہے۔ وہ اردو (مادری زبان)، انگریزی (مادری زبان)، عربی ( مادری زبان) اور ہندی میں مہارت رکھتے ہیں اور انہوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے نظام میں اسٹریٹیجیز کے ڈائریکٹر کے طور پر اپنے فرائض منصبی کو کامیابی سے نبھایا، جس میں 10 کیمپس شامل ہیں جن میں برکلی، لاس اینجلس اور ڈیوس بھی ہیں!
دنیا کی تمام برادریاں اور طبقات یہ چاہتے ہیں کہ اس کے قائد ان کے مسائل کو حقیقتاً سمجھیں۔ آج کی بنیادی ضروریات تعلیم، ٹیکنالوجی اور صحت کی دیکھ بھال ہیں، جس میں ایمانی لزت بھی بدرجہ اتم موجود ہو۔ کیا یہ نہیں ہے کہ حضرت امیرِ شریعت، مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دَامَت بَرَکَاتُہُم کے پاس دین اور دنیا دونوں ہے جس کی امت مسلمہ کو اس وقت ضرورت ہے اور وہ بھی اس قانونی دائرہ کے دائرہ میں جو دستور اور ہماری حکومت کی جانب سے وضع کردہ ہے۔
کیا یہ وقت نہیں آیا کہ بھارتی مسلمان اپنی قیادت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں میں سونپ دیں جو حقیقتاً ان کی دُنیا و آخرت کے لیے جدید ترین طرز عمل کے ساتھ مضبوط کام کر سکے۔
5۔ بھارتی اسلامی اداروں کی سالمیت کو برقرار رکھنا:
حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ کی رہنمائی اور اپنے والد حضرت مولانا محمد ولی رحمانیؒ کی تربیت کے نتیجہ میں حضرت مولانا ایک ایسی شخصیت کے مالک اور اپنے آباؤ و اجداد کے سچے پکے جانشیں ہیں جو گہری روحانی بصیرت اور پیشہ ورانہ مہارت کا امتزاج ہے۔ ان کی تربیت میں جوابدہی، شفافیت اور ملت کے لیے قربانی کے جذبہ سے سرشار قائدانہ صلاحیت مکمل طور پر موجود ہے۔
کیلیفورنیا کے کاسموپولیٹن ماحول کا عملی تجربہ رکھنے والے حضرت مولانا نے چیلنجز کو ایمانداری کے ساتھ قبول کرنے، انتظام و انصرام کو معیاری طریقہ سے برتنے اور اسے زمین پر اتارنے کے ساتھ ساتھ بڑے سے بڑے معاملہ کو حل کرنے میں غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔
حضرت مولانا بھارتی اسلامی اداروں کو بلند کرنے کے لیے انتھک کوششوں میں ہمہ تن مصروف ہیں تاکہ ایک ذمہ دار اور ذمہ داری کے ساتھ با وثوق جوابدہی کے کلچر کو فروغ دیا جائے، امت کے لیے اس سے زیادہ یقین دہانی کیا ہو سکتی ہے کہ ایک قائد اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے ساتھ امت مسلمہ کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے مسلسل کوشاں ہے؟
اختتام:
امت مسلمہ پوری ہوشمندی کے ساتھ اپنے قائد کا انتخاب کرے۔ یہ بے پناہ ضروری ہے کہ قائد کے اندر وہ خصوصیات موجود ہوں جو امت کے مستقبل کے لیے مطلوب ہے۔قائد بنفس نفیس ترغیب ہو۔
یہ وہ وقت ہے جب بھارتی امت مسلمہ کو چھان پھٹک پر اپنا قائد چننا چاہیے اور وہ قائد جو ترقی میں رکاوٹ ہو اس میں واضح فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا چہایے؛ ان افراد کو سمجھنا اور فرق کرنا چاہیے جو انہیں اپنے مقصد تک پہنچا سکتے ہیں اور جو جھوٹے وعدوں اور غیر منصوبہ بند خواب دیکھا کر امت کو گمراہ کر رہے ہیں۔
کیا ہم ایک ایسے ڈرائیونگ اسکول پر بھروسہ کر سکتے ہیں جس کے ٹرینرز گاڑی نہیں چلا سکتے ہوں؟
کیا ہم ایک ڈاکٹر پر بھروسہ کر سکتے ہیں جو کبھی میڈیکل اسکول نہیں گیا ہو؟
کیا کوئی امت کی اصلاح کر سکتا ہے جو خود ٹھیک نہ ہو؟
کیا بھارتی مسلمانوں کو اس موقع کو گنوا دینا چاہیے جب انہیں ایک با فیض، تعلیم یافتہ، روحانی اور ذمہ دار قائد کی خدمات آسانی سے مل رہی ہو جو اپنے باوقار اور بلند و بالا صلاحیت کے باوجود امت کی خدمت محض ایک خادم کی طرح کرنے کا جذبہ رکھتا ہے؟
کیا امت کو ویسے قائدین کو راہ دینا چاہیے جن کے دروازوں پر باڈی گارڈس کی ایسی رکاوٹ ہے جہاں آپ کی رسائی آسان نہیں یا کسی ایسے شخص کو اپنا قائد تسلیم کرنا چاہیے جو ملک کے عام مسلمانوں کے ساتھ اپنی مراعات بانٹنے میں خوشی محسوس کرتا ہے؟
حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی بھارتی مسلمانوں کے لیے ایک موزوں ترین قائد ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ جو لوگ قومی سیاست کو کام اور قیادت پر مبنی دیکھنا چاہتے ہیں وہ ایک ایسا مسئلہ اٹھا رہے ہیں جس کی سرے سے کوئی قانونی حیثیت ہے ہی نہیں۔
ہر بھارتی مسلمان جو امت کے لیے ایک مثبت تبدیلی کی توقع رکھتا ہے اسے خدمات کو ترجیح دینا چاہیے اور فریب کو ترک کرنا چاہیے۔
خلاصہ
خلاصہ یہ کہ قانون ہند و بورڈ کے دستور کے لحاظ سے بھی حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم کا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن ، عاملہ اور سکریٹری بننے ، بھارتی مسلمانوں کی قیادت کرنے اور ہر غیر نفع بخش تنظیم و ادارے کی قیادت کرنے میں دور دور تک کوئی حرج نہیں ہے ، بلکہ بھارتی مسلمانوں کیلئے یہ فخر کی بات ہے کہ ان کے قائد علم و عمل کے جامع ، دینی و عصری علوم کے ماہر اور اسلاف کے نمونہ شخص حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی ذات اقدس ہے ۔
اور اس شخص کو پہلے اللہ سے اور پھر امت سے معافی مانگنا چاہئے جنہوں نے قانون کی غلط تشریح کرکے افواہ پھیلانے اور ملت کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔؎
مسلم نے بھی تعمیر کِیا اپنا حرم اور
تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے