ترکیہ کی مشہور ڈرون کمپنی ’بائیکار‘ نے حال ہی میں اپنا نیا اے آئی پاورڈ کمیکازے ڈرون ’مزراق‘ پیش کیا ہے۔ مزراق کا مطلب تیر یا بھالا ہوتا ہے۔ یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والا لائیٹرنگ میونیشن ہے، جو ہوا میں گھوم گھوم کر ہدف تلاش کرتا ہے اور پھر اس پر حملہ کر دیتا ہے۔ اس ڈرون کی رینج 1000 کلومیٹر سے زیادہ ہے، 7 گھنٹے تک ہوا میں رہ سکتا ہے اور 40 کلوگرام تک کا وارہیڈ لے جا سکتا ہے۔ یہ ایس اے ایچ اے (ساہا) 2026 نمائش میں پہلی بار عوام کے سامنے آئے گا، جو 5 سے 9 مئی 2026 تک استنبول میں منعقد ہوگی۔ مزراق ایک اسمارٹ اور آٹونومس ڈرون ہے۔ اس کا وزن اڑان بھرتے وقت 200 کلوگرام تک ہو سکتا ہے اور اس کے پروں کا پھیلاؤ 4 میٹر ہے۔ یہ 185 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتا ہے اور 10000 فٹ کی بلندی تک جا سکتا ہے۔ اسے عام رن وے یا راکٹ اسسٹ سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔ یہ 2 طرح کے ویرینٹ میں آتا ہے ایک میں 40 کلوگرام کا ڈبل وارہیڈ ہوتا ہے جو بھاری نقصان پہنچانے کے لیے ہے۔ دوسرے میں 20 کلوگرام وارہیڈ کے ساتھ ریڈیو فریکوئنسی سیکر ہوتا ہے جو ریڈار والے اہداف کو آسانی سے ڈھونڈ لیتا ہے۔ اس میں بائیکار کے ای او/آئی آر کیمرے لگے ہوتے ہیں جو نگرانی اور ہدف کی شناخت میں مدد کرتے ہیں۔ یہ ڈرون نہ صرف اڑ کر حملہ کرتا ہے بلکہ ہوا میں گھوم کر صحیح موقع دیکھتا ہے۔ اسے بائیکار کے دیگر ڈرونز جیسے ٹی بی 2، ٹی بی 3 اور اے کے آئی این سی آئی کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے، جس سے ’سورم اٹیک‘ ممکن ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ عام ڈرونز جی پی ایس پر منحصر ہوتے ہیں، لیکن دشمن اگر جی پی ایس سگنل جام کر دے تو وہ بے کار ہو جاتے ہیں۔ مزراق اس مسئلے کو حل کرتا ہے۔ اس میں اے آئی پاورڈ آٹو پائلٹ سسٹم ہے جو جی پی ایس کے بغیر کام کرتا ہے۔ اس میں آپٹیکل گائیڈنس (بصری رہنمائی) اور ویزول پوزیشننگ ٹیکنالوجی نصب ہے۔
- انرشیل نیویگیشن سسٹم (آئی این ایس): ڈرون کے اندر موجود سینسرز (ایکسلیرومیٹر، جائروسکوپ) اس کی رفتار، سمت اور پوزیشن کو مسلسل ٹریک کرتے رہتے ہیں۔
- اے آئی اور کمپیوٹر وِژن: کیمرے سے آنے والی تصاویر کو اے آئی پروسیس کرتا ہے۔ یہ ریئل ٹائم میں آس پاس کے نقشوں، عمارتوں، پہاڑوں یا لینڈمارکس سے ملاپ کر کے اپنی پوزیشن کا پتہ لگاتا ہے۔ ایس ایل اے ایم (سائملٹینیس لوکلائزیشن اینڈ میپنگ) جیسی ٹیکنالوجی مدد کرتی ہے، جس میں ڈرون اپنا نقشہ خود بناتا ہے اور خود کو اس میں لوکیٹ کرتا ہے۔
- آٹونومس ٹارگیٹنگ: ہدف تک پہنچنے پر اے آئی آپٹیکل اور انفرا ریڈ تصاویر کے ذریعے ہدف کو پہچانتا ہے اور اس پر حملہ کر دیتا ہے، خواہ کوئی انسان اسے کنٹرول نہ بھی کر رہا ہو۔
اس وجہ سے جیمنگ والے علاقوں میں یہ مکمل طور سے کام کرتا رہتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جو وی آئی پی یا انتہائی اہم اہداف اینٹی جیمنگ ایریا (جی پی ایس جیمنگ سے محفوظ علاقوں) میں رہتے ہیں، ان کے لیے ’مزراق‘ بہت بڑا خطرہ ہے۔ عام طور پر سیکورٹی ایجنسیاں جی پی ایس جیمنگ کے ذریعے دشمن کے ڈرونز کو بھٹکا دیتی ہیں، لیکن مزراق کو جی پی ایس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ یہ 1000 کلومیٹر دور سے آکر گھنٹوں تک علاقے میں گھوم سکتا ہے اور اے آئی کی مدد سے خود ہدف تلاش کر سکتا ہے۔ یہ بالکل صحیح وقت پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر کوئی لیڈر یا اہم مقام پر مضبوط جیمنگ سسٹم لگا ہو، تب بھی یہ ویزول اور اے آئی سسٹم سے کام چلا لے گا۔ اس کا 40 کلوگرام والا وارہیڈ انتہائی طاقتور ہے جو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سورم موڈ میں اگر کئی ڈرونز مل کر حملہ کریں تو بچاؤ مزید مشکل ہو جائے گا۔ یہ ڈرون جنگ کے قوانین بدل سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک یا گروہوں کے لیے جو طویل فاصلے تک درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کی تلاش میں ہیں
بائیکار پہلے ہی ٹی بی 2 جیسے ڈرونز بنا چکی ہے جو کئی ممالک میں استعمال ہو چکے ہیں۔ مزراق اس کی نئی نسل ہے جو اے آئی اور خود مختار ٹیکنالوجی پر زور دیتی ہے۔ ’ساہا 2026‘ میں اس کا آغاز دنیا بھر کے دفاعی ماہرین کی توجہ حاصل کرے گا۔ مزراق صرف ایک ڈرون نہیں بلکہ جنگ کی نئی ٹیکنالوجی کی علامت ہے۔ طویل رینج، بھاری پے لوڈ، جی پی ایس-فری آپریشن اور اے آئی ٹارگیٹنگ اسے انتہائی خطرناک بناتے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں ڈرونز کتنے خود مختار اور اسمارٹ ہو سکتے ہیں۔ اب سیکورٹی ایجنسیوں کو اے آئی اور وژن-بیسڈ ڈیفنس سسٹم پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ یہ ڈرون نہ صرف فوجی توازن بدل سکتا ہے بلکہ ہائی پروفائل اہداف کی سیکورٹی کے لیے نئے چیلنجز بھی پیدا کرے گا۔