سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک کے مطابق حملے سے قبل مصری حکام نے کان کنوں کو کئی بار علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دی تھی، تاہم حملے کے ذمہ داروں کی شناخت نہیں ہو سکی۔
قاہرہ: سوڈان، مصر اور لیبیا کی سرحدوں کے سنگم پر واقع سونے کی ایک کان پر فضائی حملے میں کم از کم 13 کان کن ہلاک اور 28 دیگر زخمی ہو گئے۔ سوڈان میں جاری تنازع پر نظر رکھنے والے طبی ادارے ’سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک‘ نے اتوار کو اس حملے کی اطلاع دی۔ ادارے کے مطابق، یہ حملہ سنیچر کی صبح کیا گیا تھا، جس میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔
سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک کے مطابق، یہ حملہ تینوں ممالک کی سرحدوں کے سنگم پر واقع علاقے میں ہوا، جہاں روایتی طریقے سے سونے کی کان کنی کی جاتی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ فضائی حملہ کس نے کیا اور اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ تاہم، ادارے کا دعویٰ ہے کہ حملے سے قبل مصری حکام نے کان کنوں کو متعدد بار علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دی تھی۔ یہ علاقہ مبینہ طور پر مصر کی سرحدی حدود میں واقع ہے۔
حملے میں بچ جانے والے ایک کان کن عبدالعزیز یوسف نے خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کو بتایا کہ سنیچر کی صبح ایک نامعلوم طیارے نے پہاڑی علاقے میں واقع سونے کی ایک روایتی کان کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق، حملے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جب کہ مزید فضائی حملوں کے خوف سے متعدد افراد نے علاقے سے فرار ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔
طبی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے اور متاثرہ علاقے میں طبی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔
سوڈان میں جاری جنگ کے دوران سونا ایک اہم مالی وسیلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، باغی نیم فوجی دستے ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘ (آر ایس ایف) نے دارفور اور کردوفان کے علاقوں سے سونے کی بڑی مقدار اسمگل کرکے اپنی مالی سرگرمیوں کو تقویت دی ہے۔ سونے کی کانوں پر کنٹرول اور اس کی غیر قانونی تجارت نے ملک میں جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، رواں سال جون میں مصری سکیورٹی فورسز نے سوڈان کی سرحد پر غیر ملکی شہریوں سمیت سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر غیر قانونی کان کنی اور سونے کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل کی سال 2024 کی ایک رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ سوڈان میں نکالا جانے والا 50 فیصد سے زیادہ سونا ملک سے باہر اسمگل کر دیا گیا۔ اس صورت حال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوڈان میں جاری جنگ کے دوران سونے کی غیر قانونی تجارت کس قدر اہم مسئلہ بن چکی ہے۔