بزرگوں کے لیے مخصوص سیٹ پر بحث کے دوران 48 سالہ پون شرما کے ساتھ مبینہ مارپیٹ اور دھکا دینے کا الزام، سر پر چوٹ لگنے کے بعد اسپتال میں موت؛ پولیس نے غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ درج کرلیا
نئی دہلی: دہلی میٹرو میں بزرگوں کے لیے مخصوص سیٹ کو لے کر شروع ہونے والا معمولی تنازعہ ایک شخص کی موت کا سبب بن گیا۔ اس معاملے میں پولیس نے سابق آئی اے ایس افسر سنجے پرتاپ سنگھ اور ان کے بیٹے سدھارتھ سنگھ کو گرفتار کیا ہے۔ متوفی کی شناخت 48 سالہ پون شرما کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ 8 اکتوبر کو سپریم کورٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب میٹرو ٹرین کے اندر پیش آیا تھا۔
سپریم کورٹ میٹرو تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق، سیٹ کو لے کر ہونے والی بحث کے دوران پون شرما کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ کی گئی اور انہیں دھکا دیا گیا۔ الزام ہے کہ اس دوران وہ ٹرین کے فرش پر گر پڑے اور ان کے سر میں چوٹ آئی۔ بعد ازاں انہیں ایمبولینس کے ذریعے لوک نائک جے پرکاش اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
’اے بی پی نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق، تنازعہ بزرگوں کے لیے مخصوص سیٹ پر بیٹھنے کو لے کر شروع ہوا تھا۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بحث کے دوران پون شرما کو مبینہ طور پر تھپڑ مارا گیا اور دھکا دیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ زمین پر گر پڑے۔
پولیس نے پون شرما کی والدہ درگا شرما کی شکایت پر 9 اکتوبر کو بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 105، جو غیر ارادتاً قتل سے متعلق ہے، اور دفعہ 3(5)، جو مشترکہ نیت سے کیے گئے جرم سے متعلق ہے، کے تحت مقدمہ درج کیا۔ پولیس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، گرفتار سنجے پرتاپ سنگھ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کے سابق سینئر افسر ہیں۔ اس سے قبل انہیں مبینہ رشوت خوری کے ایک معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے بھی گرفتار کیا تھا۔ ان کا بیٹا سدھارتھ سنگھ سپریم کورٹ میں وکالت کرتا ہے۔
پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ میٹرو ٹرین کے اندر تنازعہ کس طرح بڑھا، مبینہ مارپیٹ اور پون شرما کی موت کے درمیان کیا تعلق ہے، اور واقعے میں دونوں ملزمان کا کیا کردار تھا۔