’لہرا دو ترنگا مارچ‘ سے قبل دہلی پولیس نے دونوں کو لیا تھا حراست میں، رہائی کے بعد آئسا کی صدر نے پولیس پر وکیل سے ملاقات نہ کرنے دینے اور ادویات فراہم نہ کرنے کا الزام لگایا
نئی دہلی، 17 اکتوبر: دہلی پولیس نے آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی صدر نیہا بورا کو ہفتے کی صبح رہا کر دیا، جبکہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق، دیپکے کو اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ دونوں کو جمعہ کے روز دہلی کے کناٹ پلیس میں مجوزہ ’لہرا دو ترنگا مارچ‘ سے قبل احتیاطی حراست میں لیا گیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ نیہا بورا کو دہلی پولیس ایکٹ کی دفعہ 65 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ دوسری جانب، ابھیجیت دیپکے کے خلاف بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعات 126 اور 170 کے تحت کارروائی شروع کی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، دیپکے کو گرفتار کرکے اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
رہائی کے بعد نیہا بورا نے دہلی پولیس کی کارروائی پر سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حراست میں لیے گئے افراد کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں کئی گھنٹوں تک پولیس کی تحویل میں رکھنے کے بعد رہا کیا جاتا ہے۔ بورا نے سوال اٹھایا کہ لوگوں کو رات بھر حراست میں رکھنے کا قانونی جواز کیا ہے اور اس کے لیے کس قانون یا حکم کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
آئسا کی صدر نے یہ بھی الزام لگایا کہ حراست کے دوران انہیں نہ تو اپنی بات رکھنے کا مناسب موقع دیا گیا اور نہ ہی فوری طور پر وکیل سے مشورہ کرنے کی اجازت ملی۔ ان کے مطابق، ان کی قانونی ٹیم کو ان تک پہنچنے کے لیے پانچ سے چھ گھنٹے تک کوششیں کرنا پڑیں۔ بورا نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے ابتدا میں ان سے نام، پتہ اور دیگر تفصیلات پوچھیں، لیکن کافی دیر تک انہیں قانونی مشیر سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
آئسا نے بھی الزام لگایا ہے کہ حراست میں لیے جانے کے بعد نیہا بورا کو تقریباً پانچ گھنٹے تک دہلی میں مختلف مقامات پر منتقل کیا جاتا رہا، جس کے بعد انہیں آر کے پورم پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ تنظیم کے مطابق، وکلا رات گئے پولیس اسٹیشن پہنچے، لیکن انہیں بورا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ آئسا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پولیس نے ان کی رہائی کے وقت کے بارے میں کوئی واضح اطلاع نہیں دی اور بیماری کے باوجود انہیں ادویات فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم، ان الزامات پر پولیس کا تفصیلی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
بورا نے خواتین کی حراست اور رہائی سے متعلق قانونی طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے ساتھ قانونی ضابطوں کے مطابق کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے احتجاجی تحریکوں کو انتشار سے جوڑنے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں عائد پابندیوں اور راستوں کی بندش سے عام لوگوں کو کام پر جانے اور روزمرہ کی سرگرمیاں انجام دینے میں دشواری ہو رہی ہے۔
نیہا بورا نے اپنے بیان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کا عمل روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے حقِ رائے دہی کا تحفظ اور انہیں پُرامن ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ سی جے پی کے اراکین سورَو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری کے بعد ابھیجیت دیپکے نے دہلی کے کناٹ پلیس میں واقع سینٹرل پارک میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، پولیس نے مجوزہ مارچ سے قبل ہی دیپکے اور نیہا بورا کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق، امن و امان برقرار رکھنے اور ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لیے تقریباً 150 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔