ترنگا مارچ سے قبل سی جے پی کے بانی کو حراست میں لے کر گرفتار کیا گیا تھا، اے آئی ایس اے کی صدر نیہا بورا پہلے ہی ہو چکی ہیں رہا
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی کی مجسٹریٹ عدالت نے مشروط ضمانت دے دی ہے۔ ہفتہ، 17 اکتوبر کو مندر مارگ پولیس اسٹیشن میں اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے سامنے پیشی کے بعد ان کی رہائی کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے انہیں امن بانڈ پر دستخط کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ضروری کارروائی مکمل کرکے انہیں رہا کیا جائے گا۔
ابھیجیت دیپکے کو جمعہ کو مجوزہ ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے قبل نئی دہلی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا، بعد ازاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ہفتہ کو سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔
اس معاملے میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کی قومی صدر نیہا بورا کو بھی احتیاطی کارروائی کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، تاہم انہیں جمعہ کو ہی رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد بورا نے دہلی پولیس پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عام شہریوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور امن و امان کے تقاضوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ سی جے پی نے اپنے رہنماؤں سورو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری کے خلاف ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں کو جنتر منتر پر احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔
دہلی پولیس نے مجوزہ مارچ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس دوران کناٹ پلیس اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت پابندیاں نافذ کیے جانے کی اطلاع ہے۔