کانگریس نے مردم شماری کے نئے نوٹیفکیشن کو آر ایس ایس کے تربیتی کیمپ اور ڈیموگرافی سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ساتھ جوڑتے ہوئے الزام لگایا کہ اس سے مردم شماری کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
نئی دہلی: مرکزی حکومت کے ذریعہ مردم شماری 2027 کے لیے شمار کنندگان کی تقرری کا دائرہ وسیع کرنے کے فیصلے پر کانگریس نے سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس تبدیلی سے مردم شماری کے عمل کی شفافیت اور اعتبار متاثر ہو سکتا ہے۔
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ حکومت نے 16 اکتوبر 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے ذریعے مردم شماری 2027 کے لیے شمار کنندگان کے طور پر تقرری کے اہل افراد کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ ان کے مطابق، اس فیصلے کو حالیہ مہینوں میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں اور ڈیموگرافی میں تبدیلیوں سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی کی کارروائیوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ 10 سے 12 جولائی 2026 کے درمیان آر ایس ایس نے کرناٹک کے بیلگام میں اپنے کارکنوں کے لیے ایک تربیتی کیمپ منعقد کیا تھا، جس میں مردم شماری 2027 کو مرکزی موضوع بنایا گیا۔ انہوں نے اس سرگرمی اور حکومت کے تازہ فیصلے کے درمیان تعلق پر سوال اٹھاتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے مردم شماری کے عمل میں سیاسی مداخلت کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
جے رام رمیش نے مرکزی وزارت داخلہ کے تحت 26 مئی 2026 کو تشکیل دی گئی ڈیموگرافی میں تبدیلیوں سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق، کمیٹی نے 14 اکتوبر 2026 کو ملک کی آبادیاتی تبدیلیوں کے معاملے پر عام لوگوں، ہندوستانی اداروں اور غیر ملکی تنظیموں سے تجاویز طلب کی ہیں۔
انہوں نے کمیٹی کے ارکان کے آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں اور افراد کے ساتھ مبینہ تعلقات پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ اس صورتِ حال میں کمیٹی سے موصول ہونے والی تجاویز کی غیر جانب داری پر خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
جے رام رمیش نے حکومت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شمار کنندگان کی تقرری کے دائرے میں توسیع سے ہزاروں آر ایس ایس اور بی جے پی کارکنوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے اسے روزگار فراہم کرنے کے منصوبے سے تعبیر کیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے پہلے ہی متاثر ہونے والا مردم شماری کا عمل مزید متنازع ہو سکتا ہے۔
کانگریس لیڈر نے مردم شماری کے اعداد و شمار میں ممکنہ ہیرا پھیری کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اس کا موازنہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) سے بھی کیا۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت کے اقدامات سے اہم جمہوری اداروں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
تاہم، شمار کنندگان کی تقرری کے دائرے میں توسیع سے متعلق حکومت کے فیصلے پر کانگریس کے یہ خدشات اور الزامات ہیں۔ مردم شماری کے عمل میں سیاسی مداخلت یا اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کے دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔