آئسا کی قومی صدر نیہا بورا نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے، ایس آئی آر روکنے اور 2023 کے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا؛ دھرو راٹھی نے بھی لوگوں سے بڑی تعداد میں ریلی میں شامل ہونے کی اپیل کی
نئی دہلی: دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو انڈیا اتحاد کی جانب سے بڑی ریلی منعقد کی جا رہی ہے۔ اس ریلی میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کے لیے آئسا کی قومی صدر نیہا بورا اور معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کرکے عوام سے اپیل کی ہے۔
آئسا کی قومی صدر نیہا بورا نے اس ریلی کے لیے تین مطالبات پیش کیے ہیں۔ ان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ، ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو روکنے اور 2023 کے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔
نیہا بورا نے جمعہ، 30 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے یہ تینوں مطالبات یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے ملک کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں ریلی میں شریک ہوں اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا، ’’میں آپ سب سے اپیل کرتی ہوں کہ یکم نومبر کو رام لیلا میدان پہنچیں، اپنے حق کا استعمال کریں اور جمہوریت کے تقدس کی حفاظت کریں۔‘‘ انہوں نے ویڈیو کے ساتھ یہ بھی لکھا کہ چیف الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دینا چاہیے اور ایس آئی آر کا عمل بند ہونا چاہیے۔
دھرو راٹھی نے بھی شرکت کی اپیل کی
معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی نے بھی ایکس پر ویڈیو جاری کرکے لوگوں سے یکم نومبر کی ریلی میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلا احتجاج یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ہوگا اور اس بار کانگریس اس احتجاج کی قیادت کر رہی ہے۔
دھرو راٹھی نے بتایا کہ ریلی کے لیے ضروری اجازت مل چکی ہے، اس لیے لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس احتجاج میں شامل ہونے کے لیے تیار کریں اور خود بھی ریلی میں شرکت کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جمہوریت کو بچانے کی لڑائی ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت ضروری ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا اتحاد نے ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور انتخابی عمل سے متعلق اپنے اعتراضات کے خلاف یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں بڑی ریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس میں اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ طلبہ تنظیموں، سماجی کارکنوں اور عام لوگوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔