مجلس منتظمہ کے اجلاس میں مدارس کے تحفظ، مساجد و دیگر اسلامی مقامات کی مسماری اور یکساں سول کوڈ کے خلاف تین اہم قراردادیں منظور؛ یو سی سی کو امتیازی قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کردیا گیا۔
نوح (میوات): جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کا سالانہ اجلاس جمعہ کو ہریانہ کے ضلع نوح (میوات) میں واقع ڈی ایل ایف اسپرنگ فیلڈ، سہسولا پٹی، پپیکا میں شروع ہوا۔ اجلاس کا آغاز جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کے ہاتھوں پرچم کشائی سے ہوا۔ اس اجلاس میں ملک بھر سے مجلس منتظمہ کے تقریباً دو ہزار ارکان، ممتاز شخصیات اور نامور علمائے کرام شرکت کر رہے ہیں۔
اجلاس کے ابتدائی سیشن میں تین اہم قراردادیں منظور کی گئیں۔ ان کا تعلق مدارس کے تحفظ، مساجد، عیدگاہوں اور دیگر اسلامی مذہبی مقامات کے خلاف مسماری کی کارروائیوں کو روکنے اور یکساں سول کوڈ سے تھا۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے ملک میں مسلمانوں کی موجودہ صورت حال پر مختصر گفتگو کی۔ ان کا تفصیلی خطاب بعد میں ہوگا۔
مدارس کو بدنام کرنے اور ہراساں کرنے کی کوششوں پر تشویش
مدارس کے تحفظ سے متعلق قرارداد میں مدارس کو منظوری کے نام پر ہراساں کرنے، ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے اور اقلیتی تعلیمی اداروں کو غیر ضروری تنازعات میں الجھانے کی کوششوں پر سخت تشویش ظاہر کی گئی۔ قرارداد میں حکومت ہند اور متعلقہ قانونی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ ایسی کارروائیاں فوری طور پر روکی جائیں اور آئین کے تحت مدارس کو حاصل حقوق اور تحفظات کی ضمانت دی جائے۔
قرارداد میں مدارس کے منتظمین سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنے اداروں کی زمین کے کاغذات، منظور شدہ نقشے، ہاسٹلوں میں مقیم طلبہ کے شناختی ریکارڈ اور مالی حسابات کے آڈٹ سے متعلق دستاویزات مکمل اور شفاف رکھیں، تاکہ کسی بھی قانونی ضرورت کے وقت انہیں پیش کیا جا سکے۔
مساجد اور دیگر اسلامی مقامات کی مسماری پر سخت تشویش
مساجد اور دیگر اسلامی مذہبی مقامات کے تحفظ سے متعلق دوسری قرارداد میں ملک بھر میں مساجد، عیدگاہوں، درگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ مساجد محض عبادت گاہیں نہیں، بلکہ مسلمانوں کے ایمان اور اجتماعی شناخت کی علامت ہیں۔ ان کا تحفظ ہندوستانی آئین کی دفعات 25 اور 26 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کا بھی اہم حصہ ہے۔
1991 کے عبادت گاہوں کے قانون پر عمل درآمد کا مطالبہ
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ نے عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے قانون (پلیسز آف ورشپ ایکٹ) پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اس قانون کا مقصد مذہبی مقامات کی حیثیت برقرار رکھنا اور ماضی کے مذہبی تنازعات کو دوبارہ کھولنے سے روکنا ہے۔ قرارداد کے مطابق سپریم کورٹ نے بھی ایودھیا مقدمے کے فیصلے میں اس قانون کو آئین کے سیکولر ڈھانچے کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔
قرارداد میں ماتحت عدالتوں کی جانب سے عبادت گاہوں کے سروے کے احکامات جاری کرنے پر تشویش ظاہر کی گئی اور کہا گیا کہ ایسے احکامات میں 1991 کے قانون کی روح کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سنبھل کی تاریخی شاہی جامع مسجد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یک طرفہ سروے کے حکم کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے امن و امان متاثر ہوا۔
جمعیۃ علماء ہند نے حکومت اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے 12 دسمبر 2024 کے عبوری حکم پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے قانون کے خلاف دائر کیے جانے والے نئے دعووں کو ابتدائی مرحلے ہی میں خارج کیا جائے۔
قانونی کارروائی کے بغیر مساجد کی مسماری بند کرنے کا مطالبہ
قرارداد میں بلدیاتی، ریونیو اور ترقیاتی اداروں کی جانب سے مساجد کے خلاف مسماری کی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ جمعیۃ نے کہا کہ جب تک قانونی طریقۂ کار مکمل نہ ہو اور متاثرہ فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہ دیا جائے، اس وقت تک ایسی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ قرارداد میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ جمعیۃ علماء ہند کی تمام صوبائی، ضلعی اور تحصیل سطح کی اکائیاں مرکزی جمعیۃ کی جانب سے مقرر کردہ ایک ہی تاریخ اور وقت پر متعلقہ حکام کو اپنے مطالبات پر مشتمل یادداشتیں پیش کریں گی۔
اس کے علاوہ تمام اکائیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کو مسجد کی زمین سے متعلق قانونی دستاویزات، خسرہ و کھتونی کے ریکارڈ، بلدیاتی ٹیکس اور دیگر ضروری کاغذات کی جانچ اور تکمیل میں مدد فراہم کریں۔ اس کام کو آئندہ چھ ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یکساں سول کوڈ کو مکمل طور پر مسترد کردیا
اجلاس میں منظور کی گئی تیسری قرارداد یکساں سول کوڈ (یو سی سی) سے متعلق تھی۔ جمعیۃ علماء ہند نے اس قانون کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے اپنی بنیادی نوعیت ہی میں امتیازی قرار دیا۔
واضح رہے کہ 29 اکتوبر کو جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی دفتر نئی دہلی کے مدنی ہال میں مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں مجلس منتظمہ کے سامنے پیش کی جانے والی مختلف قراردادوں کے مسودوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ مجلس عاملہ سے منظور شدہ قراردادیں جمعہ کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں پیش کی گئیں۔
اجلاس کے آغاز میں جمعیۃ علماء ہریانہ، پنجاب و ہماچل پردیش کے جنرل سکریٹری مولانا محمد یحییٰ کریمی نے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔ اس کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنائی اور سکریٹری کی رپورٹ پیش کی۔ معروف شاعر قاری احسان محسن نے اپنا کلام پیش کیا، جب کہ جمعیۃ علماء ہند (شمالی ہند) کے ناظمِ تنظیم مولانا مفتی ذاکر حسین قاسمی نے تعزیتی قرارداد پیش کی۔
یہ اجلاس 31 اکتوبر کی دوپہر تک جاری رہے گا۔ اس دوران ملک کی موجودہ صورت حال اور مسلمانوں کو درپیش سماجی، تعلیمی، ملی اور تنظیمی مسائل پر مزید قراردادیں پیش کی جائیں گی۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کا اہم خطاب بھی اجلاس کا حصہ ہوگا۔