جامعہ رحمانی میں مفتی صاحب مرحوم کے لئے ایصال ثواب اور دعائیہ مجلس کا انعقاد
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے موقر استاذ حدیث حضرت مولانا محمد عثمان صاحب قاسمیؒ کا پٹنہ میں دورانِ علاج انتقال ہو گیا۔’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘۔ ان کے وصال کی خبر سے علمی و دینی حلقوں، خصوصاً جامعہ رحمانی کے ماحول میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ پڑی ۔جامعہ رحمانی کے سرپرست امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’حضرت مولانا محمد عثمان صاحب قاسمیؒ نہایت سادہ مزاج، شفیق، دیندار، اور طلبہ میں مقبول ترین اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی شخصیت اخلاص و للٰہیت کا پیکر تھی۔ وہ ہمیشہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے میں مصروف رہتے۔ ان کی وفات سے جامعہ رحمانی نے ایک عظیم استاذ اور طلبہ نے ایک مخلص مربی کھو دیا ہے‘‘۔
حضرت امیر شریعت نے یہ بھی فرمایا کہ’’مولانا عثمان صاحبؒ نے اپنی زندگی میں ہمیشہ اپنے استاذ کے دیے ہوئے اصول پر عمل کیا، جو یہ تھا کہ مدرسہ کی خدمت کے دوران کبھی تنخواہ بڑھانے یا کتابوں کا مطالبہ نہ کریں اور جو ذمہ داری دی جائے اسے بخوبی انجام دیں۔ انہوں نے اس اصول کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا، جس کی وجہ سے ان کی زندگی سکون و قناعت کا نمونہ تھی۔ آپ نے مزید یہ بھی فرمایا کہ ’’مولانا عثمان صاحبؒ بڑے اچھے حکیم بھی تھے۔ کئی بار انہوں نے مجھے دوا تجویز کی، جن پر عمل کرکے مجھے شفا ملی۔ وہ جب بھی میرے پاس آتے، کچھ نہ کچھ ہدیہ لے کر آتے، جو ان کی سنت کی پیروی کا بہترین مظہر تھا‘‘۔
مولانا عثمان قاسمیؒ کے انتقال پر جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں ایصال ثواب اور دعائیہ مجلس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مرحوم کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
مجلس کا آغاز جامعہ رحمانی کے مؤقر استاذ حدیث جناب مولانا مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے مولانا عثمان صاحبؒ کی دینی و اخلاقی خوبیوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بے ضرر انسان بھی تھے اور ہمیشہ طلبہ کے خیر خواہ اور ایک مثالی مربی رہے۔
جامعہ رحمانی کے ناظم تعلیمات و استاذ حدیث جناب مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری نے مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کو سراہا۔ ساتھ ہی خدمات کی قبولیت اور ان کی مغفرت کی دعا کی۔ جامعہ رحمانی کے استاذ جناب مولانا سیف الرحمن صاحب ندوی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مفتی صاحب تہجد کے بڑے پابند تھے ، مزاج میں نرمی اور خوش اخلاقی تھی۔
اسی طرح جامعہ کے شعبۂ صحافت کے ایچ او ڈی جناب فضل رحمٰں رحمانی صاحب نے حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کا پیغام اور تاثرات حاضرین کے سامنے پیش کیے، جن میں حضرت امیر شریعت نے مولانا عثمان صاحبؒ کی بے مثال خدمات، ان کی عاجزی و انکساری، اخلاص و تقویٰ اور سنت کی پیروی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت مشعلِ راہ ہے۔
مجلس کے آخری مرحلے میں جامعہ رحمانی کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی اظہر صاحب مظاہری نے مرحوم کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مفتی محمد عثمان قاسمی صاحبؒ کی زندگی اخلاص و للٰہیت کا بہترین نمونہ تھی۔ آپ نے فرمایا کہ موت برحق ہے، ہر کسی کو ایک نہ ایک دن اس عارضی دنیا سے انتقال کر جانا ہے، اس لیے ہم سبھوں کو موت اور آخرت کی تیاری میں لگا رہنا چاہیے، مفتی صاحب مرحوم اللہ کے نیک اور مخلص بندوں میں تھے ہم سبھوں کو ان کیلئے مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کرنی چاہیے اخیر میں آپ کی پُرسوز دعا پر مجلس کا اختتام ہوا، اس دعائیہ مجلس میں جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے تمام اساتذہ کرام ، کارکنان اور طلبہ نے شرکت کی، حاضرین مجلس نے مفتی محمد عثمان صاحبؒ کے درجات کی بلندی، ان کی مغفرت، اور پس ماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے۔ آمین واضح رہے کہ مفتی صاحب مرحوم کی جسد خاکی کو پہلے پٹنہ سے مونگیر لایا گیا اور ان کے جنازہ کی نماز پہلے خانقاہ رحمانی مونگیر میں ادا کی گئی ، پھر جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے ایک مؤقر وفد کے ساتھ آپ کے جسد خاکی کو آپ کے آبائی وطن تمکولہا ، سونبرسا راج سہرسہ لے جایا گیا اور وہاں تدفین عمل میں آئی ، اس مؤقر وفد میں جامعہ رحمانی کے ناظم جناب الحاج مولانا محمد عارف رحمانی صاحب ، جامعہ رحمانی کے ناظم تعلیمات جناب مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری ، جناب مولانا عبد السلام صاحب رحمانی ، جناب الحاج حافظ محمد امتیاز رحمانی ، جناب مولانا محمد سیف الرحمن ندوی ، جناب قاری محمد نثار رحمانی ، جناب مولانا طارق انور رحمانی اور جناب مولانا محمد شارق رحمانی وغیرہ شامل تھے ۔