اشوک روڈ کو ٹالسٹائے مارگ سے جوڑنے والی سڑک پر آمد و رفت بحال؛ 1993 سے جنتر منتر احتجاجی مظاہروں کا اہم مرکز رہا ہے۔
نئی دہلی: قومی راجدھانی دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے لیے مشہور جنتر منتر سے متصل سڑک کو تقریباً تین دہائیوں بعد عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے اور امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں برسوں سے نصب مستقل اور عارضی بیریکیڈز ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد اشوک روڈ کو ٹالسٹائے مارگ سے جوڑنے والی سڑک پر گاڑیوں کی آمد و رفت بحال ہو گئی ہے۔
بیریکیڈز ہٹائے جانے سے روزانہ اس راستے سے گزرنے والے مسافروں اور گاڑی چلانے والوں کو بڑی راحت ملے گی۔ انہیں اب اس علاقے سے گزرنے کے لیے متبادل اور طویل راستے اختیار نہیں کرنے پڑیں گے۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ماہ دہلی پولیس نے جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ حالیہ احتجاجی سرگرمیوں اور سیکورٹی سے متعلق خدشات کے پیش نظر کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس کے بعد بھی احتیاطی طور پر علاقے میں بھاری بیریکیڈنگ برقرار رکھی گئی تھی، تاہم تازہ سیکورٹی جائزے اور حالات کا اطمینان بخش ہونے کے بعد سینئر پولیس افسران نے رکاوٹیں ہٹانے اور سڑک کو کھولنے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ جنتر منتر دہلی میں مختلف عوامی تحریکوں، سیاسی احتجاج اور دھرنوں کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ اس مقام کی احتجاجی تاریخ کا باقاعدہ آغاز 1993 میں ہوا، جب اسے مظاہروں کے لیے ایک اہم مقام کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔
اس سے قبل 1988 میں کسان رہنما مہندر سنگھ ٹکیت کی قیادت میں ہزاروں کسانوں نے دہلی کے بوٹ کلب علاقے میں بڑا احتجاج کیا تھا۔ اس مظاہرے کے بعد بوٹ کلب میں احتجاجی سرگرمیوں پر پابندیاں سخت کر دی گئیں، جس کے نتیجے میں 1993 سے جنتر منتر روڈ احتجاجی مظاہروں کا مرکزی مقام بن کر ابھری۔ اگرچہ اس کے لیے کوئی باضابطہ سرکاری اعلان نہیں کیا گیا تھا، تاہم انتظامی سطح پر اسی مقام پر احتجاجی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔