نئی دہلی: دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں طلبہ کے لیے پیئنگ گیسٹ (پی جی) کے طور پر استعمال ہونے والی پانچ منزلہ عمارت اچانک منہدم ہونے سے کم از کم دو افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ امدادی ٹیموں نے اب تک آٹھ افراد کو ملبے سے بحفاظت نکال لیا ہے۔ حادثے کے بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی، جبکہ مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ حادثہ اتوار کی دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے ستیہ نکیتن کے نانک پورہ گوردوارے کے قریب پیش آیا۔ یہ علاقہ دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے نزدیک واقع ہے اور یہاں بڑی تعداد میں طلبہ پیئنگ گیسٹ اور ہاسٹل میں قیام کرتے ہیں۔ حادثے کا شکار ہونے والی عمارت مقامی طور پر ’ہاسٹل ڈیز‘ کے نام سے جانی جاتی تھی۔
دہلی پولیس کے مطابق منہدم ہونے والی عمارت میں ایک بیسمنٹ کے علاوہ پانچ منزلیں تھیں اور اسے پیئنگ گیسٹ کی سہولت کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ حادثے کے وقت عمارت کے بیسمنٹ میں تعمیراتی یا مرمتی کام جاری تھا۔ پولیس کو دوپہر 1 بج کر 34 منٹ پر عمارت کے منہدم ہونے کی اطلاع ملی، جس کے فوراً بعد پولیس، فائر بریگیڈ، کیٹ ایمبولینس اور دیگر ہنگامی امدادی ٹیموں کو جائے حادثہ پر روانہ کیا گیا۔
ریسکیو آپریشن میں قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی ٹیم بھی شامل ہوگئی ہے۔ امدادی اہلکار بھاری مشینری اور جدید آلات کی مدد سے ملبہ ہٹانے کے ساتھ ساتھ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملبے کے اندر موجود افراد تک جلد از جلد پہنچا جا سکے۔
حکام کے مطابق ملبہ کافی زیادہ ہے، جس کی وجہ سے امدادی کارروائی میں وقت لگ سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ریسکیو آپریشن پوری رات جاری رہنے کا امکان ہے۔ امدادی ٹیمیں انتہائی احتیاط کے ساتھ ملبہ ہٹا رہی ہیں تاکہ اندر پھنسے کسی بھی شخص کو نقصان پہنچائے بغیر باہر نکالا جا سکے۔
دریں اثنا، کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ستیہ نکیتن میں عمارت منہدم ہونے کے حادثے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کی سلامتی کا معاملہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے امدادی کارروائی تیز کرنے اور طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔