نیٹ یو جی 2026 کے پیپر لیک اسکینڈل کے بعد امتحان کی منسوخی اور بہار میں مسلسل گرفتاریوں کے تناظر میں کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے اور امتحانی شفافیت برقرار رکھنے میں حکومت ناکام نظر آتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنی تازہ پوسٹ میں انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ نیٹ 2024 کے مبینہ پیپر لیک کے وقت National Testing Agency کا ڈائریکٹر جنرل کون تھا اور بعد ازاں اسے کس عہدے پر تعینات کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ محنتی طلبہ کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو نہ صرف تحفظ دیا جاتا ہے بلکہ انہیں ترقی بھی دی جاتی ہے۔
راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ایسے ماحول میں جہاں نوجوانوں کی محنت اور خواب داؤ پر لگے ہوں، وہاں ایک خطرناک رجحان پروان چڑھ رہا ہے—“جتنی بڑی بے ضابطگی، اتنا بڑا انعام”۔ انہوں نے اس معاملے کو براہ راست امتحانی نظام اور اس کی نگرانی کرنے والے اداروں کی کارکردگی سے جوڑتے ہوئے سوالات اٹھائے۔
اس سے قبل بھی وہ مختلف سرکاری تقرریوں اور انتخابی اداروں کی شفافیت پر آواز اٹھا چکے ہیں، تاہم اس مرتبہ ان کی تنقید کا مرکز نیٹ تنازعہ اور امتحانی نظام میں مبینہ بدعنوانی رہا۔