9 تا 11 جون 2026 ء تک جاری رہنے والے اس تربیتی اجتماع میں بہار، جھارکھنڈ، اڈیشہ اور مغربی بنگال کے وفاق المدارس سے منسلک 276 سے زائد مدارس کے ذمہ داران، اساتذہ اور منتظمین شریک
مونگیر (پریس ریلیز) 9 جون 2026 وفاق المدارس الاسلامیہ امارتِ شرعیہ کے زیرِ اہتمام 9 تا 11 جون 2026 ء کو جامعہ رحمانی خانقاہ، مونگیر میں سہ روزہ بین المدارس تربیتی اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس تربیتی اجتماع کا بنیادی مقصد وفاق المدارس سے منسلک مدارس کے اساتذہ کو تدریس کے جدید اور مؤثر طریقوں سے روشناس کرانا، ان کی علمی، فکری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنا، اور تعلیمی میدان میں پیش آنے والے معاصر مسائل و تقاضوں پر رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اجتماع میں مختلف علمی و تربیتی موضوعات پر ملک کے ممتاز اہلِ علم کے محاضرات کا اہتمام کیا گیا ہے، اور مؤثر پریزینٹیشنز کے ذریعے اساتذہ کو جدید تدریسی اسالیب سے آگاہ کیا جائے گا۔اپنی تاریخی، روحانی اور تعلیمی میراث کے اعتبار سے ممتاز ادارہ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر ایک بار پھر تاریخی علمی و تربیتی سرگرمیوں کا گواہ بننے جا رہا ہے۔
امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے نائب ناظم اور وفاق المدارس الاسلامیہ کے ناظم حضرت مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے ایک پریس بیانیہ میں اس اجتماع کے انعقاد کے پس منظر اور مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تربیتی پروگرام امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر و صدر وفاق المدارس الاسلامیہ کی ہدایت پر ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تدریس کے جدید طریقوں کی روشنی میں اساتذہ کو تربیت دینا اور انہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ درس کو مؤثر بنانے اور طلبہ تک علم کو صحیح انداز میں منتقل کرنے کے لیے کون سے اسالیب اختیار کیے جائیں۔ مولانا موصوف نے بتایا کہ وفاق المدارس کے دستور کے مطابق میقات تین سال کا ہوتا ہے اور اس بار تین سال کی مدت پوری ہو جانے کے سبب تیسرے روز یعنی 11 جون کو انتخابی نشست بھی منعقد ہوگی۔ واضح رہے کہ مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب سنہ 2008 سے وفاق المدارس کے منتخب ناظم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مولانا قاسمی نے مزید کہا کہ اجتماع کی تمام تیاریاں بحمد اللہ مکمل ہیں اور جامعہ رحمانی کے اساتذہ اور ذمہ داران اس سلسلے میں انتہائی تندہی سے کام کر رہے ہیں۔ خود امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، سجادہ نشیں خانقاہِ رحمانی مونگیر، پورے پروگرام کی براہِ راست نگرانی فرما رہے ہیں اور اسے آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ یہ اجتماع تاریخی، مثالی اور اساتذہ کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید ثابت ہو۔ مولانا نے شرکاء سے گزارش کی کہ وہ 11 جون کو نمازِ ظہر کے بعد واپسی کی ترتیب بنائیں اور اس سے قبل پورے تین روز پروگرام میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں، کیونکہ یہ اجتماع انتہائی مفید اور مؤثر ہوگا۔
جامعہ رحمانی کے ناظم جناب الحاج مولانا محمد عارف صاحب نے بتایا کہ اس عظیم الشان اجتماع کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور جامعہ رحمانی مہمانوں کے استقبال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے اطلاع دی کہ شرکاء بڑی تعداد میں پہنچ چکے ہیں۔
یاد رہے کہ وفاق المدارس الاسلامیہ کا قیام قاضی القضاة حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک پر 24 تا 26 مئی 1996 کو منعقدہ مدارسِ دینیہ کانفرنس کے موقع پر مدرسہ ضیاء العلوم رامپور، ضلع سمستی پور میں عمل میں آیا تھا۔ حضرت قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مدارس کی صورتِ حال پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا تھا کہ تعلیم و تربیت کے میدان میں جو عمومی انحطاط پیدا ہوا ہے اور عصری تعلیم گاہوں کے معیار میں جو بگاڑ آیا ہے، اس سے ہمارے دینی مدارس بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مدارس کے درمیان باہمی ربط و ہم آہنگی کا فقدان، کسی مرکزیت سے ان کا عدمِ وابستگی، نصابِ تعلیم میں اختلاف اور امتحانات میں بے ضابطگی جیسے مسائل اس کا واضح ثبوت ہیں۔
امیرِ شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ نے وفاق کے مقاصد بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا تھا کہ مدارس کے موجودہ نظامِ تعلیم و تربیت کا جائزہ لینے کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ مدارس کو باہم مربوط کرنے، نظامِ تعلیم و تربیت میں یکسانیت لانے اور نصابِ تعلیم کو مؤثر بنانے کے لیے وفاق المدارس الاسلامیہ کا قیام ناگزیر ہے۔ چنانچہ امارتِ شرعیہ کی سرپرستی میں وفاق قائم کیا گیا اور اس وقت سے آج تک وفاق مسلسل سرگرمِ عمل ہے۔ بحمد اللہ اس وقت دو سو چھہتر سے زائد مدارس وفاق سے ملحق ہیں۔
امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانیؒ نے مدارس پر ہو رہے حملہ کے تعلق سے فرمایا تھا کہ مدارس کے خلاف مزاج اسلیے بنانے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ مدارس کو کمزور کیا جا سکے۔ مدارس خدمت کے تسلسل کا نام ہے، دشمنوں کو خدمت کا یہ تسلسل ناپسند ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ شجر سایہ دار سوکھ جائے۔
وفاق کے پہلے صدر حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ اور پہلے ناظم حضرت مولانا محمد قاسم مظفر پوری رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ قاضی صاحب کے انتقال کے بعد حضرت مولانا سید محمد شمس الحق صاحب شیخ الحدیث جامعہ رحمانی مونگیر اور مولانا عبد الحنان صاحب بانی جامعہ اسلامیہ قاسمیہ بالا ساتھ، سیتامڑھی اور مولانا محمد قاسم مظفرپوریؒ یکے بعد دیگرے صدارت کے منصب پر فائز رہے۔وفاق کے موجودہ صدر امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر ہیں۔
یہ تربیتی اجتماع مدارسِ دینیہ کے تعلیمی و انتظامی نظام کو مزید مستحکم اور مؤثر بنانے کی سمت امارتِ شرعیہ اور وفاق المدارس کی ایک سنجیدہ اور قابلِ قدر کاوش ہے، جس سے ان شاء اللہ آنے والے برسوں میں ملحقہ مدارس کے تعلیمی معیار پر دور رس اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔