راجیو چندر شیکھر نے کہا کہ راہل گاندھی چاہیں تو جماعت اسلامی کو بھی اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں؛ کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتیں ایس آئی آر اور ووٹر لسٹوں سے نام حذف کیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔
تھرواننت پورم: کیرالہ بی جے پی کے صدر راجیو چندر شیکھر نے کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو بنگلہ دیش جانے کا مشورہ دیتے ہوئے ان پر ہندوستان میں ’افراتفری پھیلانے‘ کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر راہل گاندھی کو ملک میں انتشار پیدا کرنے میں دلچسپی ہے تو انہیں بنگلہ دیش چلے جانا چاہیے اور اپنے ساتھ جماعت اسلامی کو بھی لے جانا چاہیے، جو ان کے بقول ان کی حمایت کرتی ہے۔
راجیو چندر شیکھر نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر ایک پوسٹ میں یہ تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کا ہندوستان میں افراتفری پھیلانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ملک کی جمہوریت بی جے پی اور 140 کروڑ ہندوستانیوں کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔
نیمم سے بی جے پی کے رکن اسمبلی اور سابق مرکزی وزیرِ مملکت چندر شیکھر نے کانگریس کی انتخابی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو 2014 اور 2019 کے عام انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 2024 کے انتخابات میں بھی مبینہ طور پر جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لینے کے باوجود وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔
ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج
بی جے پی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن، ایس آئی آر) اور ووٹر لسٹوں سے مبینہ طور پر نام حذف کیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور مرکز کی بی جے پی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
راجیو چندر شیکھر نے دعویٰ کیا کہ عوام کانگریس کی سیاست اور اس کی حکمرانی کے طریقے کو سمجھ چکے ہیں اور اب اس پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے ہماچل پردیش، کرناٹک، تلنگانہ اور کیرالہ کا حوالہ دیتے ہوئے ان ریاستوں میں کانگریس کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ راہل گاندھی وزیر اعظم نریندر مودی کو سیاسی طور پر شکست دینے کے لیے ملک میں غلط معلومات پھیلا رہے ہیں اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی خاطر افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔