ماہرینِ سائنس کے مطابق گنگوتری گلیشیئر کے علاقے میں بننے والی بیشتر جھیلیں عارضی نوعیت کی ہیں، جن میں پانی کی مقدار بھی بہت کم ہے؛ فی الحال گلوف جیسے کسی بڑے خطرے کا فوری خدشہ نہیں۔
دہرادون: گنگوتری گلیشیئر کے علاقے میں متعدد چھوٹی برفانی جھیلیں دکھائی دینے کے بعد ممکنہ خطرے کے حوالے سے تشویش پیدا ہوگئی تھی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اتراکھنڈ اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دہرادون میں واقع واڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ہمالیئن جیولوجی سے اس صورتحال کا سائنسی جائزہ طلب کیا۔
ادارے کی جانب سے دستیاب تازہ سیٹلائٹ تصاویر، زمینی مشاہدات اور گلیشیئر کے جغرافیائی و آبی حالات کا جائزہ لینے کے بعد صورتحال واضح کی گئی ہے۔ سائنسی تجزیے کے مطابق گنگوتری گلیشیئر کے اطراف نظر آنے والی بیشتر چھوٹی برفانی جھیلیں عارضی نوعیت کی ہیں اور ان میں پانی کا ذخیرہ بھی محدود ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ شواہد کی بنیاد پر ان جھیلوں سے اچانک بڑے پیمانے پر سیلاب آنے یا گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF) یعنی برفانی جھیل کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی کسی سنگین آفت کا فی الحال فوری خطرہ نہیں ہے۔
برف پگھلنے سے بنتی ہیں چھوٹی جھیلیں
واڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ہمالیئن جیولوجی کے مطابق گلیشیئر کے علاقے میں ان چھوٹی جھیلوں کی تشکیل بنیادی طور پر برف پگھلنے کے عمل کا نتیجہ ہے۔ گلیشیئر کی سطح پر مختلف مقامات پر چھوٹے گڑھے اور نشیبی حصے بن جاتے ہیں، جہاں برف پگھلنے کے بعد کچھ مدت کے لیے پانی جمع ہوجاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ، برف پگھلنے کی رفتار، بارش اور گلیشیئر کی سطح میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث ان جھیلوں کے حجم اور پانی کی مقدار میں تیزی سے کمی بیشی ہوسکتی ہے۔
کئی صورتوں میں پانی کے بہہ جانے، دوبارہ برف جم جانے یا گلیشیئر کی سطح میں تبدیلی کے نتیجے میں یہ جھیلیں خود بخود ختم بھی ہوجاتی ہیں۔ اس لیے محض ایسی چھوٹی اور عارضی جھیلوں کا نمودار ہونا کسی بڑے سیلاب یا گلوف کے فوری خطرے کی قطعی علامت نہیں سمجھا جاتا۔
تاہم ماہرین کے مطابق ہمالیائی گلیشیئرز میں موسمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث مسلسل نگرانی ضروری ہے، تاکہ کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں بروقت احتیاطی اقدامات کیے جاسکیں۔