ٹرائل کورٹ سے ملی دس سال قید کی سزا کو دونوں رہنماؤں نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا؛ بی جے پی نے کہا، ضمانت ملنے کا مطلب بری ہونا نہیں، سزا بدستور برقرار ہے
پریاگ راج/رام پور: سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو ’دو پین کارڈز‘ رکھنے کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ سے بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ عدالت نے دونوں کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم، عدالت نے فی الحال ان کی سزا معطل نہیں کی ہے۔
جسٹس سمیت گوپال کی سربراہی والی بنچ نے دونوں رہنماؤں کی جانب سے دائر الگ الگ فوجداری نظرثانی کی درخواستوں پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ دونوں نے نچلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سزا پر روک لگانے اور مقدمے کی حتمی سماعت تک ضمانت پر رہائی کی درخواست کی تھی۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
استغاثہ کے مطابق، اعظم خان اور عبداللہ اعظم پر الزام تھا کہ انہوں نے پیدائش کی مختلف تاریخوں کا استعمال کرکے الگ الگ پین کارڈ حاصل کیے اور بعد میں ان کا استعمال بھی کیا۔ اس معاملے میں انتخابی کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت دوسرے پین کارڈ کے استعمال کو بھی اہم الزام بنایا گیا تھا۔
اس مقدمے میں رام پور کی ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے ابتدائی طور پر اعظم خان اور عبداللہ اعظم، دونوں کو سات سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں سیشن کورٹ نے سزا بڑھا کر دس سال کر دی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف دونوں رہنماؤں نے الہ آباد ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
15 اکتوبر کو مکمل ہوئی تھی سماعت
دونوں رہنماؤں کی جانب سے سزا معطل کرنے اور ضمانت دینے کی درخواستوں پر ہائی کورٹ میں 15 اکتوبر کو سماعت مکمل ہوئی تھی۔ اعظم خان اور عبداللہ اعظم کی پیروی سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی، این آئی جعفری اور شاشوت آنند نے کی، جبکہ اتر پردیش حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انوپ ترویدی اور ایڈیشنل گورنمنٹ ایڈووکیٹ پریتوش مالویہ نے دلائل پیش کیے تھے۔ تمام فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
ضمانت کی خبر پر وکلاء نے تقسیم کی مٹھائیاں
ہائی کورٹ کے فیصلے کی خبر سامنے آنے کے بعد رام پور کے کلکٹریٹ کمپلیکس میں اعظم خان کے حامیوں اور وکلاء نے خوشی کا اظہار کیا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ اعظم خان کے وکیل کاشف کامران نے بتایا کہ ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے دونوں کو پہلے سات سال کی سزا سنائی تھی، جسے بعد میں سیشن کورٹ نے بڑھا کر دس سال کر دیا تھا۔ اب ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے پر انہیں بڑی راحت ملی ہے۔
بی جے پی نے کہا، ضمانت کا مطلب بری ہونا نہیں
دوسری جانب، اتر پردیش بی جے پی نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضمانت ملنے کا مطلب مقدمے سے بری ہونا نہیں ہے۔ لکھنؤ میں بی جے پی کے ریاستی ترجمان ڈاکٹر انکش ترپاٹھی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کو ضمانت ضرور ملی ہے، لیکن ان کی سزا پر کوئی حکم امتناعی نہیں دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضمانت اور سزا پر روک، دو الگ الگ قانونی معاملات ہیں۔ بی جے پی ترجمان نے اعظم خان اور ان کے بیٹے سے متعلق دیگر مقدمات اور تنازعات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آئندہ مزید قانونی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تفصیلی حکم نامے کا انتظار
الہ آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی حکم نامہ ابھی جاری نہیں ہوا ہے۔ وکیل کاشف کامران کے مطابق، ضمانت کی شرائط اور دیگر قانونی تفصیلات حکم نامہ اپ لوڈ ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔ فی الحال اس فیصلے کو اعظم خان اور عبداللہ اعظم کے لیے ایک بڑی قانونی راحت قرار دیا جا رہا ہے۔