آٹھ سال کے طویل وقفے کے بعد ہونے والے انتخابات میں طلبہ نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا، نشرح نعیم نے سخت مقابلے کے بعد آخری مرحلے میں کامیابی حاصل کی۔
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں آٹھ سال کے طویل وقفے کے بعد منعقد ہونے والے طلبہ یونین انتخابات کے نتائج کا اعلان جمعہ کی صبح کر دیا گیا۔ ان انتخابات میں شعبۂ تاریخ کے ریسرچ اسکالر نعمان اشرف صدر منتخب ہوئے، جب کہ قانون کی طالبہ نشرح نعیم نے نائب صدر کا عہدہ جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ وہ اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر، نائب صدر اور اعزازی سیکرٹری کے تین اہم عہدوں میں سے کسی ایک پر منتخب ہونے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔
بی ٹیک کے طالب علم محمد حمدان نے اعزازی سیکرٹری کا انتخاب جیت لیا۔ اس طرح طلبہ یونین کے تینوں اہم عہدوں کے نتائج سامنے آ گئے۔ انتخابات کے لیے 5 نومبر کو یونیورسٹی کے 13 پولنگ مراکز پر ووٹنگ ہوئی تھی، جب کہ ووٹوں کی گنتی جمعرات کی رات اے بی کے اسکول کیمپس میں شروع ہوئی اور جمعہ کی صبح تک جاری رہی۔
نعمان اشرف صدر منتخب، 7797 ووٹ حاصل کیے
صدر کے انتخاب میں نعمان اشرف نے 7797 ووٹ حاصل کرکے کامیابی درج کی۔ انہوں نے اپنے قریبی حریف محمد انتخاب کو 4121 ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی۔ نتائج کا اعلان ہوتے ہی ان کے حامیوں نے کیمپس میں جشن منایا، نعرے لگائے اور پٹاخے پھوڑ کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
کامیابی کے بعد نعمان اشرف نے کہا کہ آٹھ سال کی طویل جدوجہد کے بعد طلبہ کو یہ موقع ملا ہے، جو ان کے لیے انتہائی خوشی کا لمحہ ہے۔ انہوں نے کیمپس میں طلبہ کے جوش و خروش کو اس کامیابی کی اہم علامت قرار دیا۔
محمد حمدان اعزازی سیکرٹری منتخب
اعزازی سیکرٹری کے عہدے پر بی ٹیک کے طالب علم محمد حمدان کامیاب ہوئے۔ انہوں نے اپنی جیت کو ایک بڑی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ طلبہ سے کیے گئے تمام وعدوں کو پورا کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ کام کریں گے۔
نشرح نعیم کی تاریخی کامیابی، سخت مقابلے کے بعد نائب صدر منتخب
ان انتخابات کا سب سے نمایاں اور تاریخی نتیجہ نائب صدر کے عہدے پر سامنے آیا، جہاں قانون کی طالبہ نشرح نعیم نے کامیابی حاصل کرکے یونیورسٹی کی انتخابی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کی۔ اس عہدے کے لیے سات امیدوار میدان میں تھے اور نشرح نعیم کو ثاقب علی خان کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، ووٹوں کی گنتی کے آخری مرحلے میں انہوں نے برتری حاصل کرکے کامیابی اپنے نام کر لی۔
اپنی کامیابی پر نشرح نعیم نے اسے اجتماعی جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کم وقت، محدود وسائل اور ایک چھوٹی ٹیم کے ساتھ یہ کامیابی ان لوگوں کی لگن، حوصلے اور خلوص کے باعث ممکن ہوئی جنہوں نے اس سفر میں ان کا ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ اب قیادت کے تصور کو نئے انداز سے متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران طلبہ کو متعدد مسائل اور چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جب کہ یونین کے فعال رہنے کے سابقہ دور میں بھی کئی مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق نئی قیادت کو ان دیرینہ مسائل پر توجہ دینی ہوگی۔
نشرح نعیم نے اپنی کامیابی کو صرف اپنی نہیں بلکہ پوری طلبہ برادری کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک واضح نظریے اور مقصد کے ساتھ نئے سفر کا آغاز کیا ہے اور امید ہے کہ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کے یہ انتخابات آٹھ سال کے طویل وقفے کے بعد منعقد ہوئے ہیں۔ نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ کے درمیان جشن کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ نشرح نعیم کی کامیابی کو خاص طور پر یونیورسٹی کی طلبہ سیاست میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔