ہائی کورٹ نے پریتی لونڈھے کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی، منگل تک اہل خانہ کے حوالے کرنے کا بھی حکم؛ خاتون کی بہن نے دائر کی تھی ہیبیس کارپس پٹیشن
بھوپال: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے دہلی میں جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے سفر کر رہی خاتون پریتی لونڈھے کو مبینہ طور پر ٹرین سے اتار کر حراست میں لیے جانے کے معاملے میں ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ خاتون کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور منگل تک بحفاظت ان کے اہل خانہ تک پہنچانے کے انتظامات کیے جائیں۔
یہ معاملہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں ہونے والے احتجاج سے متعلق ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، پریتی لونڈھے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شرکت کے لیے گوا ایکسپریس سے دہلی جا رہی تھیں۔ الزام ہے کہ سفر کے دوران مدھیہ پردیش کے نرمداپورم ضلع میں واقع اٹارسی ریلوے اسٹیشن پر ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کے اہلکاروں نے انہیں ٹرین سے اتار لیا، جس کے بعد انہیں ریاستی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
خاتون کی بہن وشاکھا پرشانت لونڈھے نے اس معاملے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ہیبیس کارپس پٹیشن دائر کی تھی۔ اس قانونی درخواست کے ذریعے کسی شخص کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھے جانے کی صورت میں اسے عدالت کے سامنے پیش کرنے اور حراست کی قانونی حیثیت جانچنے کی استدعا کی جاتی ہے۔
درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس وویک جین پر مشتمل بنچ نے جمعہ کے روز ریاستی حکومت اور متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ پریتی لونڈھے کو عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ معاملے کی سماعت کے دوران ان کی موجودگی یقینی بنائی جا سکے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ منگل کو ہونے والی اگلی سماعت سے پہلے خاتون کو عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے، تاہم اس صورت میں دوسرے فریق کو پیشگی اطلاع دینا ضروری ہوگا۔ بنچ نے ریاستی حکومت کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ خاتون کو کسی پریشانی کے بغیر براہ راست ان کے اہل خانہ تک بحفاظت پہنچانے کا انتظام کر سکتی ہے۔
اب اس معاملے میں منگل کو ہونے والی اگلی سماعت اہم ہوگی، جہاں عدالت کے سامنے خاتون کی پیشی اور انہیں اہل خانہ تک پہنچانے سے متعلق پیش رفت سامنے آنے کی توقع ہے۔