باقاعدہ طبی معائنے اور فوری مداخلت کی ہدایت دہلی ہائی کورٹ نے سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کے دوران ان کی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت کو باقاعدہ طبی معائنے کرانے اور ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق ضرورت پڑنے پر فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی صحت اور سلامتی سے متعلق دائر مفادِ عامہ کی عرضی کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ان کے باقاعدہ طبی معائنہ کرایا جائے اور ڈاکٹروں کی رپورٹ کی بنیاد پر ضرورت پڑنے پر فوری مداخلت کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ ہر شہری کی زندگی انمول ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ خیال رہے کہ سونم وانگچک گزشتہ 19 دنوں سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ پیپر لیک اور شعبہ تعلیم میں بےضابطگیوں کے خلاف بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفی دینا چاہئے۔ ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے خدشات کے پیش نظر دہلی ہائی کورٹ میں ایک مفادِ عامہ کی عرضی دائر کی گئی تھی، جس پر جمعرات کو سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں پہلے ہی نوٹس جاری کیا جا چکا ہے اور سونم وانگچک کی صحت کی روزانہ بنیاد پر نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جب بھی سونم وانگچک نے اجازت دی، سرکاری ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا اور نجی ڈاکٹروں کو بھی ان کی صحت جانچنے کی اجازت دی گئی ہے۔