مرکزی وزیر سربانند سونووال کے مطابق جہاز سے نامعلوم فضائی شے ٹکرائی؛ وزارتِ خارجہ اور بھارتی سفارت خانہ عمانی حکام کے رابطے میں، مہلوک ملاح کی میت وطن لانے کی کارروائی جاری۔
عمان کے ساحل کے قریب ایک ہندوستانی جہاز پر حملے کے نتیجے میں عملے کا ایک ہندوستانی رکن ہلاک ہو گیا، جبکہ 13 دیگر افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ مرکزی وزیر برائے بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں سربانند سونووال نے منگل کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 2 نومبر کو جہاز ’ایم ایس وی الجوسیفی‘ سے ایک نامعلوم فضائی شے ٹکرائی تھی۔ حادثے میں ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات کے رہنے والے گندھار ناحیم عزیز کے طور پر ہوئی ہے۔
سونووال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ واقعے کے بعد عمان کے کوسٹ گارڈ نے جہاز پر سوار عملے کے 13 ارکان کو بحفاظت نکال لیا، تاہم ایک ہندوستانی ملاح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ انہوں نے مہلوک کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت اور عمان میں بھارتی سفارت خانہ مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ بچائے گئے افراد کو ضروری مدد فراہم کرنے اور ان کی جلد وطن واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ مہلوک کی میت بھی ہندوستان لانے کی کارروائی جاری ہے۔
وزارتِ خارجہ نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ وزارت کے مطابق جہاز پر مجموعی طور پر 14 ہندوستانی شہری سوار تھے، جن میں سے 13 کو بچا لیا گیا، جبکہ ایک کی موت ہو گئی۔ عمان میں بھارتی سفارت خانہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور عمانی حکام کے تعاون سے بچائے گئے شہریوں اور مہلوک کی میت کی واپسی کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ وزارت نے خطے میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی اور تنازعے کے سفارتی حل پر بھی زور دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ عمان کے ساحلی علاقے میں ہندوستانی ملاحوں سے متعلق یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل 11 اکتوبر کو عمان کے ساحل پر واقع سوہار اینکرج کے قریب نکاراگوا کے پرچم بردار ٹینکر ’ایم ٹی پیٹرو ڈولفن‘ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس جہاز پر 11 ہندوستانی ملاح سوار تھے، جن میں سے نو کو بچا لیا گیا، جبکہ دو لاپتہ ہو گئے تھے۔ بھارتی سفارت خانے نے اس وقت بھی عمانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے صورتحال کی نگرانی کی تھی۔
اسی طرح 6 اکتوبر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہندوستانی جہاز ’ایم ٹی آن پیس‘ پر پروجیکٹائل سے حملہ کیا گیا تھا، جس پر ہندوستان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایسے واقعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ 30 اکتوبر کو خلیج فارس میں مارشل آئی لینڈز کے پرچم بردار ایل این جی جہاز ’ایم ٹی ال ماییدہ‘ سے بھی ایک پروجیکٹائل ٹکرایا تھا۔ اس جہاز پر چھ ہندوستانی ملاحوں سمیت عملے کے تمام 25 ارکان محفوظ رہے تھے۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان تجارتی جہازوں پر حملوں کے ان مسلسل واقعات نے سمندری راستوں سے گزرنے والے ہندوستانی ملاحوں کی سلامتی کا مسئلہ ایک بار پھر اہم بنا دیا ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شہری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سمندری راستوں پر آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔