راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے بانی اور سربراہ لالو پرساد یادو نے پارٹی کے تیسویں یومِ تاسیس کے موقع پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی اداروں کی مبینہ کمزوری، سرمایہ اور دولت کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت، بازار کی بالادستی اور دائیں بازو کی سیاست کے فروغ نے ملک کی جمہوری اقدار کے سامنے سنگین چیلنج کھڑے کر دیے ہیں۔
عوام کے نام اپنے خصوصی پیغام میں لالو پرساد یادو نے کہا کہ ملک کی جمہوری، ترقی پسند، سوشلسٹ اور آئینی فکر رکھنے والی قوتیں اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں دولت کا اثر اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب اس کا استعمال صرف ووٹروں کو متاثر کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ منتخب عوامی نمائندوں کو بھی اپنے حق میں کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جو جمہوری نظام کے لیے تشویشناک رجحان ہے۔
آر جے ڈی سربراہ نے الزام عائد کیا کہ پسماندہ طبقات کی سیاسی نمائندگی، تعلیم و روزگار میں مساوی مواقع، اقلیتوں کے آئینی حقوق اور حکومت کی کارکردگی سے متعلق بنیادی عوامی مسائل کو مبینہ طور پر ہندوتوا کی سیاست کے پردے میں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس طرزِ سیاست کے باعث عوام کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں اور سیاسی مباحث کا رخ دانستہ طور پر تبدیل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 5 جولائی 1997 کو راشٹریہ جنتا دل کا قیام غریبوں، محروم طبقات، پسماندہ برادریوں اور اقلیتوں کے حقوق، انصاف اور باوقار نمائندگی کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔ لالو پرساد یادو کے مطابق آر جے ڈی صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ایسی عوامی تحریک ہے جس نے بہار سمیت ملک کی سیاست کو نئی سمت اور نئی سوچ فراہم کی۔