ایران نے مذاکرات میں پیش رفت کے لیے اپنی سات شرائط پوری کرنے پر زور دیا، امریکی خط کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا؛ آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کا ایرانی دعویٰ
تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی سفارتی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ اسی سلسلے میں تہران کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایک خط موصول ہوا ہے، تاہم ایران نے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی ’جزا و سزا‘ کی پالیسی ایران پر اثر انداز نہیں ہوسکتی اور مذاکرات میں کسی بھی پیش رفت کے لیے تہران کی سات شرائط کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
قالیباف نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی شرائط ثالثوں تک واضح طور پر اور کئی بار پہنچائی جاچکی ہیں۔ ان کے بقول، ’’جزا و سزا کی پالیسی ایران پر کارگر نہیں ہوگی۔ مذاکرات میں پیش رفت اسی وقت ممکن ہے جب ایران کی سات شرائط پر اتفاق کیا جائے۔‘‘
ان کا یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ ثالثوں نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے رعایتیں دینے سے انکار کیا تو امریکہ دوبارہ فضائی حملے شروع کرسکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس کے بدلے واشنگٹن بعض پابندیوں میں نرمی اور ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔
جے ڈی وینس کے خط میں مذاکرات کی بحالی پر زور
ایرانی خبر رساں ایجنسیوں ’تسنیم‘ اور ’فارس‘ نے جمعرات کو ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایران کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہوگیا ہے، تاہم تہران نے ابھی اس کا جواب نہیں دیا ہے۔ تسنیم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ خط موصول ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے، لیکن ایران کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے بدھ کو رپورٹ کیا تھا کہ یہ خط امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی کو بھیجا گیا ہے۔ اس سفارتی رابطے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور امریکہ کی جانب سے مزید حملوں کے خدشات کو کم کرنے کی راہ تلاش کرنا تھا۔
اخبار کے مطابق، خط اور اس کے بعد دونوں جانب کے حکام کے درمیان ہونے والے رابطوں کا فوری مقصد کسی حتمی امن معاہدے کی شرائط طے کرنا نہیں، بلکہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک ممکنہ لائحۂ عمل تیار کرنا تھا۔
یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا تھا۔ ان حملوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے تھے۔
آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کا ایرانی دعویٰ
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بھی صورتِ حال کشیدہ ہے۔ ایرانی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کے دوران کم از کم تین آئل ٹینکرز بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں ان میں آگ لگ گئی۔
اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین آئل ٹینکروں میں دھماکے ہوئے اور وہ آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز آبنائے ہرمز میں ایک ایسے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کررہے تھے جسے ایران نے غیر مجاز قرار دے رکھا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے الزام لگایا کہ ان جہازوں نے اپنے ریڈار اور نیویگیشن سسٹم بند کر رکھے تھے اور ایرانی بحریہ کی جانب سے جاری کردہ انتباہات کو بھی نظر انداز کیا تھا۔
ایران کا یہ دعویٰ امریکی فوج کی جانب سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے مرکزی راستوں کو صاف کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس طرح ایک طرف دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں، تو دوسری طرف آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے خطے کی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔