تیز بارش، شدید بھیڑ اور تنگ راستے کے درمیان پیش آیا حادثہ، بھگدڑ کی اصل وجہ اب تک واضح نہیں؛ وزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کے لیے 25 لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری ملازمت کا اعلان کیا
کولکاتا: مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا میں درگا پوجا کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 19 افراد کی موت ہو گئی، جب کہ 25 دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ سنیچر کی شام شمالی کولکاتا کے چورباگان سرووجنین درگا پوجا پنڈال میں پیش آیا۔ زخمیوں کو کولکاتا میڈیکل کالج اور اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس نے واقعے کے سلسلے میں پوجا منتظمین، نجی سکیورٹی گارڈز اور ڈیوٹی پر تعینات عملے سمیت 12 افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے اسپتال پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے فی کس 25 لاکھ روپے معاوضہ اور ایک اہلِ خانہ کو گروپ ڈی کی سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح زخمیوں کو بہتر سے بہتر طبی سہولت فراہم کرنا ہے۔
لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کے بعد جمع ہوئی بھیڑ
وزیر اعلیٰ کے مطابق، ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پوجا منتظمین کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر پر کیے گئے ایک اعلان کے بعد پنڈال کے باہر اچانک بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے، جس کے نتیجے میں افراتفری پھیل گئی۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ دو مہلوکین کے اہلِ خانہ نے نجی سکیورٹی گارڈ کی جانب سے سیٹی بجائے جانے کے بعد بھیڑ میں افراتفری پھیلنے کی بات کہی ہے۔ تاہم، حکام نے ابھی تک بھگدڑ کی اصل وجہ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
تیز بارش اور تنگ راستے نے بڑھائی مشکلات
کولکاتا پولیس کے ایڈیشنل کمشنر کنال اگروال کے مطابق، سنیچر کی شام تقریباً 7 بج کر 40 منٹ پر سردا پارک، چورباگان کے درگا پوجا پنڈال کے خارجی دروازے پر بھگدڑ جیسی صورتِ حال پیدا ہوئی۔ اس وقت تیز بارش ہو رہی تھی اور پنڈال کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔
چورباگان کا درگا پوجا پنڈال چترنجن ایونیو کے قریب ایک تنگ گلی میں واقع ہے اور حالیہ برسوں میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، بارش شروع ہونے کے بعد باہر انتظار کر رہے لوگوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کئی افراد گر پڑے اور صورتِ حال بے قابو ہو گئی۔
میڈیا رپورٹس میں پنڈال کے خارجی دروازے کے ڈھانچے کا ایک حصہ گرنے اور آگ لگنے کی افواہ پھیلنے کو بھی ممکنہ وجوہات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ تاہم، ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ پولیس تمام پہلوؤں سے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔
امدادی کارروائیاں، پنڈال بند
حادثے کی اطلاع ملتے ہی کولکاتا پولیس، فائر بریگیڈ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں اور طبی عملے کو جائے وقوع پر روانہ کیا گیا۔ زخمیوں کو نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا، جب کہ احتیاطی اقدام کے طور پر پنڈال کو عقیدت مندوں کے لیے بند کر دیا گیا۔
پوجا منتظم وکاس داس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال حادثے کی اصل وجہ واضح نہیں ہے اور انتظامیہ کی توجہ زخمیوں کو اسپتال پہنچانے اور بچاؤ کے کاموں پر مرکوز ہے۔
وزیر اعظم مودی کا اظہارِ تعزیت، مالی امداد کا اعلان
وزیر اعظم نریندر مودی نے کولکاتا میں پیش آنے والے اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے مہلوکین کے لواحقین کے لیے فی کس دو لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ واقعہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
امت شاہ نے مغربی بنگال کے پروگرام ملتوی کیے
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اتوار، 18 اکتوبر کو مغربی بنگال میں ہونے والے اپنے تمام طے شدہ پروگرام ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری سے بھی بات کی اور جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ امت شاہ دو روزہ دورے پر مغربی بنگال میں تھے، جہاں انہیں درگا پوجا کی تقریبات میں شرکت کرنی تھی۔
ممتا بنرجی نے بھی دکھ کا اظہار کیا
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی حادثے پر صدمے کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کو اس مشکل وقت میں ہمت و حوصلہ عطا ہونے کی دعا کی۔
پولیس نے کنٹرول روم قائم کیا
واقعے کے بعد کولکاتا پولیس کے لال بازار دفتر میں ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، ایمرجنسی کی صورت میں شہری ٹول فری نمبر 1800 345 5678 یا لینڈ لائن نمبر 033 2214 1310 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
حادثے کی اصل وجہ، حفاظتی انتظامات میں ممکنہ کوتاہی اور بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے طریقۂ کار کی تحقیقات جاری ہیں۔