راجندر پال گوتم کا حکومت پر سخت حملہ کہا: تعلیم مہنگی، نوجوان بے روزگار اور پیپر لیک کے واقعات نے طلبہ کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے۔ لکھنؤ: اتر پردیش کانگریس کے انچارج راجندر پال گوتم نے لکھنؤ یونیورسٹی پہنچ کر فیس اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ سے ملاقات کی اور ان کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے ریاستی اور مرکزی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث اعلیٰ تعلیم مسلسل مہنگی ہوتی جا رہی ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنا مشکل بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق تعلیم ہر طالب علم کا بنیادی حق ہے، لیکن موجودہ نظام اسے عام لوگوں کی پہنچ سے دور کر رہا ہے۔ راجندر پال گوتم نے الزام لگایا کہ لکھنؤ یونیورسٹی انتظامیہ نے مختلف کورسز کی فیس میں یکدم بھاری اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی کام آنرز جیسے عام ڈگری کورس کی فیس تقریباً ایک لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کئی دیگر کورسز کی فیس بھی تقریباً دوگنی کر دی گئی ہے، جس سے طلبہ اور ان کے والدین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیس اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ وائس چانسلر سے ملاقات کر کے اپنا موقف پیش کرنا چاہتے تھے، مگر انہیں یہ موقع نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق طلبہ کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وائس چانسلر ان سے بات کریں گے، لیکن بغیر کسی گفتگو کے وہاں سے روانہ ہونے کی کوشش کی گئی۔ راجندر پال گوتم کے مطابق اس کے بعد طلبہ نے اپنی بات منوانے کے لیے وائس چانسلر کی گاڑی کے سامنے پرامن احتجاج کیا، تاہم انتظامیہ نے ان کے خلاف مقدمات درج کر دیے اور بعد ازاں تعطیلات کے دوران متعدد طلبہ کو یونیورسٹی سے خارج بھی کر دیا۔ کانگریس رہنما نے حکومت کو بے روزگاری، پیپر لیک اور تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت جیسے مسائل پر بھی گھیرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے ان معاملات پر سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائی واپس لی جائے، فیس اضافے پر نظرثانی کی جائے اور انتظامیہ طلبہ سے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالے …