ایس آئی آر کے خلاف اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر جنتر منتر احتجاج کے دوران بڑے پیمانے پر حراستیں؛ دوسرے روز بھی نئی دہلی اور وسطی دہلی میں ٹریفک پابندیاں برقرار
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور طلبہ و نوجوانوں کی مختلف تنظیموں کی جانب سے ایس آئی آر (اسپیشل انٹینسیو ریویژن) کے خلاف اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر جنتر منتر پر احتجاج کی اپیل کے بعد دہلی میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ احتجاج کے دوران پولیس نے متعدد رہنماؤں، منتظمین اور مظاہرین کو حراست میں لیا۔ تاہم، تازہ اطلاعات کے مطابق، مجسٹریٹ کورٹ نے ابھیجیت دیپکے، رانکا اور سورو داس سمیت دیگر افراد کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
احتجاج کے پیش نظر اتوار کو دوسرے روز بھی نئی دہلی اور وسطی دہلی کے کئی علاقوں میں ٹریفک کی آمد و رفت متاثر رہی، جب کہ حساس مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات برقرار رکھے گئے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ایس آئی آر کے عمل کو روکا جائے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہیں ملی
دہلی پولیس نے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس کی جانب سے درخواست مقررہ مدت سے تاخیر سے دیے جانے اور سابقہ مظاہروں کے دوران ضابطوں کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا گیا۔ اس کے باوجود احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی پہنچنے والے رہنماؤں اور حامیوں کو پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ رہنماؤں، کارکنوں اور احتجاج کی حمایت کرنے والی دیگر شخصیات کو بھی حراست میں لیا گیا۔ یوٹیوبر دھرو راٹھی کا نام بھی حراست میں لیے گئے افراد میں شامل بتایا گیا، تاہم مختلف افراد کی حراست اور رہائی سے متعلق اطلاعات کی سرکاری تصدیق الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
دہلی میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات
احتجاج کے پیش نظر نئی دہلی، جنتر منتر اور دیگر حساس علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق، سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 25 ہزار سے 35 ہزار کے درمیان بتائی گئی ہے۔ پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے اور مظاہرین کو ممنوعہ علاقوں میں جمع ہونے سے روکنے کے لیے بیریکیڈنگ اور نگرانی کے انتظامات سخت کیے۔
دہلی کی سرحدوں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں اور دیگر اہم مقامات پر بھی جانچ بڑھائی گئی۔ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی اور مظاہرین کی حراست کے معاملے نے سیاسی حلقوں میں بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
میٹرو، ٹریفک اور عوامی آمد و رفت متاثر
سکیورٹی انتظامات کے تحت دہلی کے متعدد میٹرو اسٹیشنوں پر عارضی طور پر داخلے اور اخراج پر پابندیاں عائد کیے جانے کی اطلاع ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 45 سے زائد اہم میٹرو اسٹیشنوں پر پابندیاں لگائی گئیں، جنہیں سنیچر کی رات تقریباً 10 بجے دوبارہ کھول دیا گیا۔
دہلی کی جانب آنے والی بعض ٹرینوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، جب کہ سرحدی علاقوں میں گاڑیوں کی جانچ اور نگرانی سخت کی گئی۔ سکیورٹی پابندیوں اور بیریکیڈنگ کے باعث کناٹ پلیس اور اطراف کے تجارتی علاقوں میں بھی معمولات متاثر ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔
تاہم، جنتر منتر کے اطراف چار کلومیٹر کے دائرے میں انٹرنیٹ بند کیے جانے، متعدد ٹرینوں کی منسوخی اور دیگر وسیع پابندیوں سے متعلق اطلاعات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
آج بھی ٹریفک ڈائیورژن نافذ
دہلی ٹریفک پولیس کی ایڈوائزری کے مطابق، اتوار، 11 اکتوبر کو صبح 6 بجے سے نئی دہلی، وسطی دہلی اور دیگر حساس علاقوں میں کئی اہم راستوں پر ٹریفک ڈائیورژن نافذ کیا گیا۔ اس سے روزمرہ مسافروں اور ان علاقوں سے گزرنے والی گاڑیوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
متاثرہ راستوں میں شنکر روڈ گول چکر، جھنڈے والان گول چکر، پنچکوئیاں روڈ، منڈی ہاؤس، منٹو روڈ، دین دیال اپادھیائے مارگ، دھولا کنواں فلائی اوور اور کناٹ پلیس کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ بھیروں روڈ، لودھی روڈ فلائی اوور، نیلا گنبد گول چکر، سمراٹ ہوٹل گول چکر، بھیکاجی کاما پلیس، موتی باغ فلائی اوور اور سردار پٹیل مارگ کے بعض حصوں پر بھی ٹریفک متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
جنتر منتر روڈ، اشوکا روڈ، ٹالسٹائی مارگ، جن پتھ، سنسد مارگ، ریل بھون، پٹیل چوک، گول ڈاک خانہ اور کناٹ پلیس کے اندرونی چوراہوں پر بھی ٹریفک کی روانی کو منظم کرنے کے لیے راستوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، متبادل راستے اختیار کریں اور ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں یا ہوائی اڈے جانے کے لیے اضافی وقت لے کر نکلیں۔
اپوزیشن کی حمایت اور جمہوری حقوق پر بحث
احتجاج کو مختلف اپوزیشن رہنماؤں اور سیاسی شخصیات کی حمایت ملنے کی اطلاعات ہیں۔ مظاہرین اور ان کے حامیوں نے پولیس کارروائی اور پابندیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے جمہوری حقوق اور اختلافِ رائے کی آزادی سے جوڑا ہے۔ بعض احتجاجی رہنماؤں نے سخت سکیورٹی اور بڑے پیمانے پر حراستوں کا موازنہ ایمرجنسی جیسے حالات سے بھی کیا ہے۔
دوسری جانب، پولیس کا موقف ہے کہ احتجاج کی اجازت نہ ملنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ ایسے میں اس معاملے پر سیاسی بحث کے ساتھ ساتھ احتجاج کے حق، انتظامیہ کی ذمہ داری اور انتخابی عمل کی شفافیت سے متعلق سوالات بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
سی جے پی اور اس کی حمایت کرنے والی تنظیموں نے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد دہلی میں سکیورٹی اور ٹریفک کی صورت حال پر انتظامیہ کی نظر برقرار ہے۔ شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل دہلی ٹریفک پولیس کی تازہ ترین ایڈوائزری دیکھیں۔