کیدار تال ٹریکنگ کے دوران 12 رکنی ٹیم برفباری اور برفانی تودوں کی زد میں آگئی، 3 پورٹرز اور ایک باورچی کو بحفاظت بچا لیا گیا، لاپتہ افراد میں مغربی بنگال کے 5 اور اتر پردیش کی 2 خواتین شامل
دہرادون: اتراکھنڈ کے پہاڑی علاقے میں ٹریکنگ کے لیے نکلی 12 رکنی ٹیم کے آٹھ افراد گزشتہ تین روز سے لاپتہ ہیں۔ شدید برفباری، خراب موسم اور برفانی تودے گرنے کے باعث یہ افراد کیدار تال کے دشوار گزار پہاڑی راستے میں پھنس گئے ہیں۔ ان کی تلاش کے لیے فضائی اور زمینی سطح پر مسلسل ریسکیو آپریشن جاری ہے، تاہم اب تک لاپتہ افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ ٹیم کے چار دیگر ارکان، جن میں تین پورٹرز اور ایک باورچی شامل ہیں، کو 31 اکتوبر کو بحفاظت بچا لیا گیا تھا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، 12 رکنی ٹیم نے 27 اکتوبر کو اتراکھنڈ کے گنگوتری سے کیدار تال ٹریکنگ کا سفر شروع کیا تھا۔ اس سے قبل 26 اکتوبر کو گنگوتری نیشنل پارک انتظامیہ نے انہیں تین روزہ ٹریکنگ کی اجازت دی تھی۔ تاہم، ٹیم کے روانہ ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی محکمہ کو 29 اکتوبر کے لیے خراب موسم کا الرٹ موصول ہوا۔ اس وقت تک ٹریکرز پہاڑی راستے پر کافی آگے جا چکے تھے اور ان سے رابطے کا کوئی ذریعہ دستیاب نہیں تھا۔
گنگوتری نیشنل پارک کے ڈپٹی ڈائریکٹر میانک گرگ نے بتایا کہ محکمہ کو 27 اکتوبر کی صبح تقریباً 10:30 سے 11 بجے کے درمیان موسم کی خرابی سے متعلق اطلاع ملی تھی، لیکن ٹریکنگ ٹیم سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اس الرٹ سے آگاہ نہیں کیا جا سکا۔ ٹیم کو 29 اکتوبر تک واپس آنا تھا، لیکن اسی دوران شدید برفباری اور برفانی تودے گرنے کے باعث ان کے پھنسنے کی اطلاع موصول ہوئی۔
لاپتہ ہونے والوں میں مغربی بنگال کے پانچ افراد شامل ہیں، جن کی شناخت تپس باؤری (30)، رتن گھوش، منوج کھواس (39)، ریتو منڈل (40) اور ادے گھوش (30) کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کے علاوہ اتر پردیش کی دو خواتین ورتیکا ورما (28) اور دیپیکا ورما بھی لاپتہ ہیں۔ آٹھویں شخص سدھارتھ رانا (25) ہیں، جو اتراکھنڈ کے اترکاشی کے رہنے والے اور ٹیم کے گائیڈ ہیں۔
اتراکھنڈ اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کے کمانڈنٹ ارپن یادوونشی کے مطابق، لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے دو سطحوں پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ ایک ٹیم پیدل دشوار گزار پہاڑی راستے سے ان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن راستے میں برفانی تودے گرنے کی وجہ سے پیش قدمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب، ایس ڈی آر ایف کے اہلکاروں نے دو مرتبہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرہ علاقے کا فضائی جائزہ لیا، لیکن نہ تو لاپتہ ٹریکرز کا کوئی سراغ ملا اور نہ ہی ان کے خیمے یا دیگر سامان نظر آئے۔ حکام کے مطابق، اب تک کسی قسم کا ہنگامی پیغام بھی موصول نہیں ہوا ہے۔
یادوونشی نے بتایا کہ پیر، 2 نومبر کی صبح ایک بار پھر ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرہ علاقے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کارروائی میں ہائی الٹیٹیوڈ ریسکیو ٹیم کے پانچ ارکان اور اترکاشی کے نہرو انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹینیرنگ کے چار اہلکار شامل ہوں گے۔ منصوبے کے مطابق، اہلکار ہیلی کاپٹر سے رسیوں کے ذریعے نیچے اتریں گے اور زمین پر اترنے کے بعد ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کے لیے عارضی ہیلی پیڈ تیار کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے بعد دشوار گزار پہاڑی علاقے میں زمینی تلاشی مہم چلائی جائے گی۔
حکام کے مطابق، کیدار تال راستے میں سُکھی ڈھانگ کے قریب برفانی تودوں سے متاثرہ علاقہ ٹریکنگ کے ابتدائی مقام سے تقریباً 11 سے 12 کلومیٹر پیدل فاصلے پر ہے، جبکہ فضائی راستے سے اس کا فاصلہ تقریباً 5.5 سے 6 کلومیٹر ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، اس راستے پر 10 سے 12 مقامات پر برفانی تودے گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں، جس سے ریسکیو ٹیموں کے لیے آگے بڑھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
31 اکتوبر کو برف ہٹاکر راستہ بنانے کے بعد ریسکیو ٹیم نے متاثرہ علاقے سے نیچے کچّی ڈھانگ کے قریب چار افراد کو تلاش کیا تھا، جن میں تین پورٹرز اور ایک باورچی شامل تھے۔ انہیں بحفاظت گنگوتری پہنچا دیا گیا۔ اس کے بعد سے باقی آٹھ افراد کی تلاش جاری ہے۔
ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق، ریسکیو آپریشن میں ایس ڈی آر ایف، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، محکمہ جنگلات، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں شامل ہیں۔ 30 اکتوبر کو متاثرہ علاقے کی جانب روانہ ہونے والی ٹیموں کو راستے میں کئی مقامات پر برفانی تودے ملنے کے بعد واپس لوٹنا پڑا تھا۔ بعد میں ٹیموں نے مزید آگے بڑھنے کی کوشش کی اور تلاش کا دائرہ وسیع کیا۔
کیدار تال کا راستہ گومکھ ٹریک کے مقابلے میں کم استعمال ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس علاقے میں ٹریکنگ کے لیے آنے والے تقریباً 95 فیصد سیاح گومکھ کا راستہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ کیدار تال کے راستے پر آنے جانے والوں کی تعداد نسبتاً کم ہونے کی وجہ سے وہاں نگرانی بھی کم ہوتی ہے۔
اتراکھنڈ میں پہلے بھی پیش آچکے ہیں ایسے حادثات
واضح رہے کہ اتراکھنڈ کے پہاڑی علاقوں میں خراب موسم اور برفانی تودوں کے باعث ماضی میں بھی کئی جان لیوا حادثات پیش آ چکے ہیں۔ اکتوبر 2021 میں ہرسل کے قریب لمکھاگا پاس کے راستے پر ٹریکنگ کرنے والی 11 رکنی ٹیم کے سات ارکان شدید خراب موسم کی زد میں آکر ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ دو افراد لاپتہ ہو گئے تھے۔ اسی ماہ باگیشور ضلع میں سندردھنگا گلیشیئر کے قریب برفانی تودہ گرنے سے پانچ ٹریکرز کی موت ہوئی تھی۔
اکتوبر 2022 میں اترکاشی کے دروپدی کا ڈانڈا-2 پہاڑ پر کوہ پیمائی کرنے والی ٹیم برفانی تودے کی زد میں آگئی تھی، جس میں 27 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ جون 2024 میں بھی خراب موسم کے باعث 22 رکنی ٹریکنگ ٹیم حادثے کا شکار ہوئی تھی، جس میں پانچ افراد ہلاک اور چار لاپتہ ہو گئے تھے۔
کیدار تال میں جاری تازہ ریسکیو آپریشن کے دوران موسم اور دشوار گزار راستے سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں لاپتہ آٹھ افراد کی تلاش کے لیے وقت کے ساتھ مقابلہ جاری ہے اور ریسکیو ٹیمیں انہیں بحفاظت نکالنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔