ڈیبرا کے رکن اسمبلی شبھاشیش اوم پر مبینہ طور پر جبراً وصولی کے معاملے میں حملہ کیا گیا؛ واقعے میں کئی افراد زخمی، پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی سامنے آگئے۔
مغربی بنگال کے ضلع مغربی مدنا پور کے ڈیبرا اسمبلی حلقے سے بی جے پی کے رکن اسمبلی شبھاشیش اوم پر مبینہ طور پر ان ہی کی پارٹی کے کارکنوں نے حملہ کر دیا، جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، واقعہ مبینہ جبراً وصولی (Extortion) کے معاملے پر پارٹی کارکنوں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کے بعد پیش آیا۔
بی جے پی ذرائع کے مطابق، پیر کے روز ایم ایل اے شبھاشیش اوم کچھ کاموں کا جائزہ لینے کے لیے ایک سرکاری دفتر گئے تھے۔ وہاں انہیں بعض شکایات موصول ہوئیں، جس کے بعد وہ معاملے کی جانچ اور بات چیت کے لیے پولیس اسٹیشن پہنچے۔ الزام ہے کہ پولیس اسٹیشن کے باہر موجود کچھ لوگوں نے انہیں گھیر لیا اور ان پر حملہ کر دیا۔ ایم ایل اے کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور گھاٹل کے بی جے پی لیڈر تنمے داس کے حامی تھے۔
واقعے کے بعد دونوں گروپوں کے کارکن بڑی تعداد میں پولیس اسٹیشن پہنچ گئے، جس سے وہاں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کیا۔ اس تصادم میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ زخمی ایم ایل اے کو پہلے ڈیبرا سپر اسپیشلٹی اسپتال لے جایا گیا، تاہم حالت بگڑنے پر انہیں مدنا پور سپر اسپیشلٹی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ہماری لڑائی جبراً وصولی کے خلاف ہے: ایم ایل اے
شبھاشیش اوم نے واقعے کے حوالے سے کہا کہ ان کی پارٹی کے کچھ کارکن ایک جھگڑے کے بعد ایک دوسرے کے خلاف شکایت درج کرانے پولیس اسٹیشن گئے تھے۔ وہ معاملے کو سلجھانے اور کارکنوں کے درمیان صلح کرانے کی غرض سے وہاں پہنچے تھے، کیونکہ سبھی ایک ہی پارٹی کے بینر تلے کام کرتے ہیں۔ لیکن اسی دوران بعض کارکن ان کے خلاف ہوگئے اور ان پر حملہ کر دیا۔ ایم ایل اے کے مطابق، اصل تنازع جبراً وصولی کے خلاف ان کی لڑائی سے جڑا ہوا ہے۔
پارٹی کے اندرونی طور پر شکایت کرنے کا مشورہ
دوسری جانب بی جے پی کے گھاٹل آرگنائزیشنل ضلع صدر تنمے داس نے واقعے سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس معاملے کی مکمل تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔ ایم ایل اے سے اسپتال میں ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ شبھاشیش اوم کی حالت ٹھیک ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر پارٹی یا اس کے کارکنوں کے خلاف کوئی شکایت ہے تو اسے عوامی سطح پر اٹھانے کے بجائے پارٹی کے اندرونی فورم پر حل کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
تنمے داس نے جبراً وصولی کے الزامات پر کہا کہ انہیں بعض علاقوں سے اس طرح کی شکایات ضرور موصول ہوئی ہیں، لیکن فی الحال وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس میں پارٹی کا کوئی کارکن ملوث ہے یا نہیں۔
اسپتال میں بھی حملے کی کوشش کا الزام
ادھر گھاٹل بی جے پی یوا مورچہ کے نائب صدر پرہلاد چکرورتی نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ ضلع صدر اور ان کے حامیوں کی جانب سے کرایا گیا تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسپتال میں ان پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق، پورے معاملے کی رپورٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو بھیج دی گئی ہے۔
اس واقعے نے مغربی بنگال میں بی جے پی کے اندرونی اختلافات اور کارکنوں کے درمیان جاری مبینہ رسہ کشی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم، حملے کے ذمہ داروں اور جبراً وصولی کے الزامات کی حقیقت کی باضابطہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔