امداد یافتہ اور غیر امداد یافتہ نجی اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے علاوہ بینکوں اور سرکاری و غیر سرکاری محکموں کے ملازمین کو بھی مردم شماری کے کام پر تعینات کیا جا سکے گا۔
ہندوستان میں آئندہ مردم شماری 2027 کی تیاریوں کے درمیان مرکزی حکومت نے مردم شماری کے عملے کی دستیابی بڑھانے کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے۔ اب مردم شماری کی ذمہ داری صرف سرکاری اسکولوں کے اساتذہ تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کو بھی اس کام میں شامل کیا جا سکے گا۔ اس سلسلے میں مرکزی حکومت نے مردم شماری کے ضابطہ 1990 میں ترمیم کی ہے۔
نئے ضابطے کے مطابق امداد یافتہ اور غیر امداد یافتہ نجی اسکولوں، کالجوں، سوسائٹیوں اور ٹرسٹوں سے وابستہ اساتذہ کو بھی شمار کنندہ (Enumerator) مقرر کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ سرکاری شعبے کے اداروں (PSU)، بینکوں اور مختلف سرکاری و غیر سرکاری محکموں کے کلرکوں اور دیگر ملازمین کو بھی مردم شماری کی ڈیوٹی سونپی جا سکتی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے مردم شماری کے کام کے لیے دستیاب افرادی قوت کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اب تک مردم شماری سمیت مختلف قومی مہمات اور انتخابی سرگرمیوں میں زیادہ تر سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی رہی ہیں۔ اس وجہ سے اساتذہ کو تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ اضافی انتظامی کام بھی انجام دینے پڑتے ہیں، جس سے اسکولوں کی معمول کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ اب نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور دیگر شعبوں کے ملازمین کو بھی اس عمل میں شامل کرنے سے سرکاری اساتذہ پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مردم شماری 2027 ملک گیر سطح پر ایک بڑا انتظامی عمل ہوگا، جس کے لیے لاکھوں کارکنوں کی ضرورت پڑے گی۔ ایسے میں عملے کے دائرے کو وسیع کرنے سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مردم شماری کی ذمہ داریاں تقسیم کرنے کے لیے مزید افراد دستیاب ہوں گے۔
حکومت کے مطابق مردم شماری کے کام پر تعینات کیے جانے والے نجی اساتذہ اور دیگر ملازمین کو بھی ضروری تربیت فراہم کی جائے گی اور ان کی خدمات کے عوض مقررہ اعزازیہ دیا جائے گا۔ اس طرح آئندہ مردم شماری میں سرکاری ملازمین کے ساتھ نجی تعلیمی اداروں اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد بھی اہم کردار ادا کریں گے۔