دہلی، مہاراشٹر سمیت سات ریاستوں میں ان ووٹروں کو راحت، جن کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج ہوگئے تھے۔ تاہم، یہ سہولت صرف پہلے سے ووٹر لسٹ میں شامل رہنے والوں کو ملے گی۔
نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر لسٹ سے خارج رہ جانے والے ووٹروں کو اپنا نام دوبارہ شامل کرانے کا ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سہولت سات ریاستوں کے ان ووٹروں کو فراہم کی جائے گی جنہیں غیر حاضر، مستقل طور پر منتقل، فوت شدہ یا ڈپلیکیٹ اندراج (ASDD) کے زمرے میں نشان زد کیا گیا تھا۔
کمیشن کے مطابق، ان ووٹروں کو گنتی کے فارم (Enumeration Forms) جاری کیے گئے تھے، لیکن مقررہ مدت میں فارم واپس نہ کیے جانے کے باعث ان کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہوسکے۔ اب الیکشن کمیشن نے دہلی، مہاراشٹر، ہریانہ، آندھرا پردیش، جھارکھنڈ، تلنگانہ اور ناگالینڈ کے انتخابی حکام کو ہدایت دی ہے کہ ایسے ووٹروں کو دوبارہ اپنا نام شامل کرانے کا موقع دیا جائے۔
الیکشن کمیشن نے متعلقہ حکام سے یہ بھی کہا ہے کہ ایک مؤثر مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے، تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر حتمی انتخابی فہرست میں نام شامل کرانے کے حق سے محروم نہ رہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈپلیکیٹ اندراجات کی روک تھام کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تاہم، یہ سہولت ان لوگوں کے لیے نہیں ہوگی جن کے نام پہلے کبھی ووٹر لسٹ میں شامل ہی نہیں رہے۔ اس کا فائدہ صرف ایسے افراد اٹھا سکیں گے جن کے نام سابقہ انتخابی فہرست میں موجود تھے، لیکن ایس آئی آر کے دوران حذف ہوگئے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 29 اکتوبر کو دہلی میں ایس آئی آر کے عمل میں عجلت پر سوال اٹھائے تھے۔ اس کے اگلے ہی روز الیکشن کمیشن نے اس عمل کی آخری تاریخ میں توسیع کردی تھی۔ ایس آئی آر شروع ہونے سے قبل دہلی میں تقریباً ایک کروڑ 45 لاکھ ووٹر درج تھے، جب کہ 31 اگست کو جاری ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں تقریباً 97 لاکھ 53 ہزار نام شامل کیے گئے۔ اس طرح تقریباً 47 لاکھ 57 ہزار ووٹروں کے نام ابتدائی فہرست سے باہر رہ گئے تھے۔