انتخابی کمیشن کے اختیارات اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے عمل کو عدالت میں چیلنج کیا گیا؛ اس سے قبل اپوزیشن کے مارچ کو پولیس نے سپریم کورٹ کے قریب روک دیا تھا۔
نئی دہلی: ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک نے قانونی محاذ پر اپنی جدوجہد تیز کر دی ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے سمیت اتحاد کے 11 رہنماؤں نے پیر، 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں مشترکہ عرضی داخل کی۔ عرضی عدالت کی رجسٹری میں درج کر لی گئی ہے اور منگل، 13 اکتوبر کو اس پر سماعت ہونے کا امکان ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق، عرضی میں ایس آئی آر کے عمل کی قانونی حیثیت، انتخابی کمیشن کے اختیارات کے استعمال اور انتخابی عمل میں شفافیت و غیر جانب داری سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں نے ایس آئی آر کرانے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔
عرضی داخل کرنے والوں میں راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کے علاوہ ترنمول کانگریس کے سوگت رائے، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، آر جے ڈی کے تیجسوی پرساد یادو، شیو سینا (یو بی ٹی) کے سنجے راوت، ایم اے بے بی، ڈی راجا، مہوا ماجی، سپریا سولے اور ای ٹی محمد بشیر شامل ہیں۔ عرضی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو فریق بنایا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، سپریم کورٹ کی رجسٹری کو عرضی سے متعلق ضروری کارروائی مکمل کرنے اور دستاویزات میں کسی کمی کی صورت میں اسے دور کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ معاملے کو منگل کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جا سکے۔ امکان ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ اس پر سماعت کرے گی۔ تاہم، سماعت اور عدالت کی کارروائی سے متعلق حتمی صورت حال کی تصدیق ضروری ہے۔
اس سے قبل پیر کو انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس مارچ میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، ملکارجن کھڑگے، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو سمیت کئی اپوزیشن رہنما شریک ہوئے۔ مختلف علاقوں سے کانگریس اور اتحادی جماعتوں کے کارکنان بھی دہلی پہنچے تھے۔
مارچ کے دوران دہلی پولیس نے بھگوان داس روڈ پر بیریکیڈنگ کرکے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اطلاعات کے مطابق، مظاہرین نے پہلے بیریکیڈ کو ہٹا دیا، لیکن سپریم کورٹ کے قریب دوسرے بیریکیڈ پر پولیس نے انہیں روک دیا۔ اس دوران علاقے میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری تعیناتی کی گئی تھی۔
مارچ سے پہلے چیف جسٹس سوریا کانت نے انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے عدالت تک مارچ کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس کے باوجود اپوزیشن رہنماؤں نے سپریم کورٹ پہنچ کر عرضی داخل کرنے کے اپنے اعلان پر عمل کیا۔ عرضی کا رجسٹری میں درج ہونا اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اس کے مندرجات پر عدالت کا حتمی موقف سماعت کے بعد ہی واضح ہوگا۔
دوسری جانب، دہلی میٹرو ریل کارپوریشن نے مارچ کے پیش نظر پیر کی صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک چھ میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند رکھے۔ ان میں پٹیل چوک، جن پتھ، راجیو چوک، منڈی ہاؤس، سینٹرل سکریٹریٹ اور بارہ کھمبا روڈ شامل تھے۔ اس اقدام سے دارالحکومت کے اہم علاقوں میں آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔
اب سب کی نظریں منگل کو ہونے والی ممکنہ سماعت پر مرکوز ہیں۔ عدالت اس عرضی پر کیا موقف اختیار کرتی ہے اور ایس آئی آر کے عمل سے متعلق اپوزیشن کے اعتراضات پر کیا کارروائی ہوتی ہے، یہ آنے والے وقت میں واضح ہوگا۔