آج کا انسان ایک ایسی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہے جہاں فطرت کی انتہائیں روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ اپریل کے مہینے میں ہی درجہ حرارت کا 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر جانا اور محسوس ہونے والا درجہ حرارت 49 ڈگری تک پہنچ جانا صرف ایک موسمی تغیر نہیں، بلکہ ایک سنگین انتباہ ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں رک کر یہ سوال کرنا ہوگا کہ آخر اس تباہ کن گرمی کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ محض قدرتی عمل ہے، یا ہم خود اس تباہی کے معمار ہیں؟
ملک کے مختلف شہروں میں لوگوں نے اس غیر معمولی گرمی کی شکایت کی، جو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید محسوس ہوئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتے نقشے اور عالمی درجہ حرارت کی فہرستیں اس بات کا ثبوت بن گئیں کہ ہندوستان اس وقت دنیا کے گرم ترین خطوں میں شامل ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کیا بلکہ ان لوگوں کے لیے زندگی کو عذاب بنا دیا جو کھلے آسمان کے نیچے محنت مزدوری کرتے ہیں۔
حکومتی سطح پر کچھ اقدامات ضرور کیے گئے، جیسے اسکولوں میں بچوں کے لیے پانی پینے کی یاد دہانی، ہلکے کپڑے پہننے کی ہدایات اور اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک یونٹس کا قیام، لیکن یہ سب اقدامات مسئلے کی جڑ کو نہیں چھوتے۔ یہ وقتی راحت فراہم کر سکتے ہیں، مگر مستقل حل نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی ایک ’مخلوط بحران‘ ہے، جہاں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور مقامی سطح پر ناقص پالیسیوں کا امتزاج ایک تباہ کن صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ ہم نے اپنی زمین، پانی اور جنگلات کو اس حد تک نقصان پہنچایا ہے کہ وہ اب قدرتی طور پر ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کی اپنی صلاحیت کھو چکے ہیں۔