تہران نے جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی جواب کو ناکافی قرار دے دیا؛ ٹرمپ کے فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے بیان کے بعد نیتن یاہو نے سکیورٹی مشاورت کی۔
تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو خطے میں مواصلاتی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر غیر یقینی صورت حال برقرار ہے اور امریکی فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے امکانات پر بھی بات ہو رہی ہے۔
قومی آواز میں شائع رپورٹ کے مطابق، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے پیر کو کہا کہ جنگ ختم کرنے سے متعلق امریکی جواب تہران کے لیے تسلی بخش نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ایران نے امریکی مؤقف پر مزید جواب دینا روک دیا ہے اور واشنگٹن کو بعض اہم معاملات پر وضاحت پیش کرنی ہوگی۔
رضائی نے بتایا کہ امریکہ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ سات شرائط میں سے بعض کو قبول کیا ہے، تاہم دیگر شرائط پر اب بھی صورت حال واضح نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں دوبارہ فوجی تصادم شروع ہوا تو ممکنہ کارروائیوں کا دائرہ روایتی فوجی اہداف تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ مواصلاتی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی کی تنصیبات بھی اس کی زد میں آ سکتی ہیں۔
ڈیجیٹل نظام کو نشانہ بنانے کی دھمکی کیوں اہم ہے؟
مواصلاتی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی تنصیبات جدید ڈیجیٹل نظام کا اہم حصہ ہیں۔ زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی کیبلز انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ڈیٹا کی ترسیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ ڈیٹا سینٹرز میں بڑی مقدار میں معلومات محفوظ کی جاتی ہیں اور مختلف آن لائن خدمات چلائی جاتی ہیں۔ اے آئی کے نظام بھی بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ وسائل اور ڈیٹا سینٹرز پر انحصار کرتے ہیں۔
ایسی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے سے انٹرنیٹ رابطوں، ڈیجیٹل خدمات اور معلومات کی ترسیل میں خلل پڑ سکتا ہے۔ تاہم، ایران کی جانب سے دی گئی اس دھمکی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی مخصوص تنصیب پر حملہ ہو چکا ہے یا کسی حملے کا حتمی منصوبہ منظور کر لیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد اسرائیل میں سکیورٹی مشاورت
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ ایران کے خلاف فوجی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایران سے متعلق سکیورٹی صورت حال پر مشاورت کی۔
اسرائیلی چینل 13 کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی فوج کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور دونوں جانب سے ٹھوس نوعیت کی بات چیت ہو رہی ہے۔
اس سے قبل امریکی اخبار ’دی نیویارک ٹائمز‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کو ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کے منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اخبار کے مطابق، زیرِ غور منصوبوں میں تقریباً تین روز تک جاری رہنے والی شدید فوجی مہم کا امکان بھی شامل تھا۔
ایران کی تازہ دھمکی، امریکی فوجی منصوبہ بندی سے متعلق رپورٹ اور اسرائیل میں جاری سکیورٹی مشاورت نے خطے کی صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے آگے بڑھتے ہیں یا کشیدگی دوبارہ براہِ راست فوجی تصادم کی شکل اختیار کرتی ہے۔