جدید میزائلوں، ڈرونز اور ایرانی تکنیکی تعاون کے سہارے حوثی باغی سعودی عرب کے لیے بڑا چیلنج بن گئے، فضائی حملوں کے باوجود ان کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ
نئی دہلی: یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب پر حملوں کے ذریعے اپنی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ سینکڑوں کلومیٹر دور تک حملے کرنے والے ان باغیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب، یمن کے اندر بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے اہم راستوں کے قریب علاقوں پر ان کی گرفت مضبوط ہونے سے خطے کی سلامتی اور عالمی تجارت کے لیے بھی خطرات بڑھ گئے ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے حوثیوں کے خلاف متعدد فضائی حملے کیے ہیں، لیکن ان کارروائیوں کے باوجود حوثی اپنی عسکری سرگرمیاں جاری رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ جدید امریکی ہتھیاروں اور میزائل دفاعی نظام سے لیس سعودی عرب کو بھی ان حملوں کا مؤثر جواب دینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا حوثیوں کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہی ہے؟
جدید میزائلوں اور ڈرونز کا وسیع ذخیرہ
حوثیوں کے پاس بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ ان میں سے کئی ہتھیار ایرانی ساختہ ماڈلز سے مشابہت رکھتے ہیں اور خلیجی ممالک سمیت اسرائیل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حوثی بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے اینٹی شپ میزائلوں اور بحری ڈرونز کا استعمال بھی کر چکے ہیں، جس سے عالمی تجارت کے ایک اہم سمندری راستے کی سلامتی متاثر ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر ماہرین کے مطابق، ایران حوثیوں کو تکنیکی مہارت، تربیت اور جدید ہتھیاروں کی فراہمی میں مدد دیتا رہا ہے۔ لبنان اور عراق میں ایران کے اتحادی گروہوں کے ساتھ بھی حوثیوں کے عسکری روابط کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایران، تاہم، حوثیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، حوثیوں نے درست نشانہ لگانے والے بیلسٹک میزائل تیار کرنے کے لیے چینی سپلائرز سے پرزے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعض میزائلوں کی ممکنہ مار کرنے کی صلاحیت تقریباً 2,000 کلومیٹر تک بتائی گئی ہے۔ چین نے اس رپورٹ پر براہِ راست ردعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم وہ اپنی عسکری برآمدات کو محتاط اور ذمہ دارانہ قرار دیتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کی 2024 کی ایک رپورٹ میں حوثیوں کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً ساڑھے تین لاکھ بتائی گئی تھی، جو 2015 میں ریکارڈ کیے گئے تقریباً 30 ہزار جنگجوؤں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ یہ وہی سال تھا جب سعودی عرب نے یمن کی خانہ جنگی میں حوثیوں کے خلاف فوجی مداخلت کی تھی۔
کم لاگت کے ہتھیار، مہنگا دفاع
حوثیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں کا ایک اہم پہلو ان کے ہتھیاروں کی لاگت بھی ہے۔ نسبتاً سستے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے وہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور ساحلی علاقوں میں موجود جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، سعودی عرب کو ان حملوں کو ناکام بنانے کے لیے مہنگے اور جدید انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اگر حملہ آور کم لاگت والے ڈرونز اور میزائلوں کی بڑی تعداد استعمال کریں، تو دفاعی نظام پر مسلسل دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس طرح حملے کو ناکام بنانے کے باوجود دفاع کرنے والے ملک کو مالی اور عسکری وسائل کے استعمال میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ حوثی اپنے میزائلوں کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کے دفاعی نظام کے لیے بڑا امتحان
سعودی عرب کے پاس امریکہ سے حاصل کردہ جدید لڑاکا طیاروں اور میزائل دفاعی نظام سمیت بھاری مقدار میں اسلحہ موجود ہے۔ اس کے باوجود، ملک کے وسیع رقبے اور اہم تنصیبات کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہونے کی وجہ سے ہر حملے کو روکنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
سعودی عرب کی یمن کے ساتھ سرحد تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل ہے، جس کے کئی حصے دشوار گزار اور صحرائی علاقوں پر مشتمل ہیں۔ اس جغرافیائی صورتِ حال سے حوثیوں کو سرحد پار حملوں اور اپنی عسکری سرگرمیاں مختلف مقامات پر پھیلانے میں مدد مل سکتی ہے۔
حالیہ حملوں میں دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی عرب کی قومی تیل کمپنی آرامکو کے صدر دفتر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان حملوں کے باعث پروازوں کی منسوخی اور دیگر سرگرمیوں میں خلل پڑنے کی خبریں بھی ہیں۔ اگر یہ حملے جاری رہتے ہیں تو سعودی عرب کے کاروبار، سیاحت اور کھیلوں کے عالمی مرکز کے طور پر خود کو متعارف کرانے کے منصوبوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
سعودی عرب کو صرف یمن میں سرگرم حوثیوں ہی سے خطرہ نہیں، بلکہ عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کی جانب سے بھی تیل کی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہے۔ اس نوعیت کے حملے تیل کی برآمدات کے لیے اہم پائپ لائنوں اور دیگر تنصیبات کی سلامتی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
فضائی حملے حوثیوں کو کمزور کرنے میں کیوں ناکام رہے؟
حوثی شمالی یمن میں سرگرم ایک شیعہ مذہبی و سیاسی تحریک ہیں، جو 2014 میں دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے بڑے حصوں پر قابض ہو گئے تھے۔ سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی۔ اس کے بعد کئی برس تک حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کیے گئے، جن میں عام شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں۔
تاہم، فضائی کارروائیاں حوثیوں کی حکومت اور عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ 2022 میں جنگ بندی کے بعد محاذ بڑی حد تک منجمد ہو گیا، لیکن تنازعے کا بنیادی حل نہیں نکل سکا۔
غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں اور اسرائیل کی جانب حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ امریکہ اور برطانیہ نے جنوری 2024 سے حوثیوں کے خلاف متعدد فضائی کارروائیاں کیں۔ بعد ازاں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ان حملوں میں مزید شدت آئی۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق، اس مہم کے دوران ایک ہزار سے زائد اہداف پر تقریباً دو ہزار بم اور میزائل گرائے گئے۔
امریکی حملوں کے بعد حوثیوں نے امریکی بحری جہازوں پر حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی، لیکن اسرائیل کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسرائیل نے 2025 میں جوابی حملے کیے، جن میں حوثیوں کے زیرِ انتظام حکومت کے وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس کے باوجود حوثیوں کی عسکری سرگرمیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔
یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے کسی ایسے گروہ کو فیصلہ کن طور پر شکست دینا مشکل ہو سکتا ہے، جس کا عسکری ڈھانچہ وسیع علاقوں میں پھیلا ہو اور اسے مقامی حمایت یا بیرونی مدد حاصل ہو۔
حوثیوں کے مخالف گروہوں میں اختلافات
حوثیوں کے خلاف زمینی کارروائی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ان کے مخالف یمنی گروہوں کے درمیان اختلافات ہیں۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کے وفادار جنگجوؤں اور متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسند قوتوں کے درمیان سیاسی اور عسکری اختلافات موجود ہیں۔ ان اختلافات کی وجہ سے حوثیوں کے خلاف متحدہ حکمتِ عملی اختیار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے نزدیک، فضائی حملوں کے ذریعے عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچانا ایک مرحلہ ہے، لیکن کسی علاقے پر مستقل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے زمینی افواج، سیاسی اتفاقِ رائے اور مقامی انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یمن میں حوثیوں کے مخالف گروہوں کے درمیان اتحاد کی کمی ان کے لیے ایک بڑی کمزوری ثابت ہوئی ہے۔
دوسری جانب، امریکہ بھی خطے میں ایران سے متعلق دیگر معاملات میں مصروف ہے اور یمن میں براہِ راست بڑی فوجی مہم جاری رکھنے سے گریز کر سکتا ہے۔ اگست میں سعودی عرب نے پاکستان اور ترکی کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، لیکن یہ واضح نہیں کہ حوثیوں کے ساتھ تنازعے کی صورت میں یہ ممالک کس نوعیت کی عملی مدد فراہم کریں گے۔
سفارتی حل کی راہ بھی دشوار
حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو بھی کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ حوثی سعودی عرب سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ یمن پر عائد ناکہ بندی ختم کرے۔ دوسری جانب، سعودی عرب کے لیے اس مطالبے کو قبول کرنا سیاسی اور عسکری اعتبار سے ایک مشکل فیصلہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے حوثیوں کی پوزیشن مزید مضبوط ہونے کا خدشہ ہے۔
ایسے حالات میں مذاکرات، جنگ بندی اور یمن کے سیاسی مستقبل پر اتفاقِ رائے ہی تنازعے کو کم کرنے کے اہم راستے ہو سکتے ہیں۔ تاہم، جب تک حوثیوں اور ان کے مخالف گروہوں کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار رہتے ہیں اور بیرونی طاقتیں اس تنازعے میں اثرانداز ہوتی رہتی ہیں، مستقل امن کا حصول مشکل دکھائی دیتا ہے۔
کیا حوثی طاقت کے توازن کو بدل رہے ہیں؟
سعودی عرب پر حملے، بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے لیے خطرات اور جدید ہتھیاروں کے استعمال کی صلاحیت حوثیوں کو ایک اہم علاقائی عسکری قوت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ان کی طاقت کا اندازہ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ زیادہ طاقتور مخالفین کے خلاف طویل عرصے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم، ان حملوں کو حوثیوں کی فیصلہ کن برتری کا ثبوت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ سعودی عرب کے پاس اب بھی جدید دفاعی وسائل، مالی طاقت اور علاقائی اتحادی موجود ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا وہ ان وسائل کو مؤثر دفاع، سفارتی کوششوں اور یمن کے سیاسی حل کے لیے یکجا کر پائے گا یا نہیں۔ فی الحال، حوثیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتیں سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے ایک سنجیدہ اور مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہیں۔