راہل گاندھی نے آئی ڈی بی آئی ملازمین کے نام کھلا خط جاری کرکے مجوزہ فروخت پر سوال اٹھائے، کہا: خسارے سے نکل کر 9 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ منافع کمانے والے بینک کو فروخت کرنے کی آخر کیا ضرورت ہے؟
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے آئی ڈی بی آئی بینک کی مجوزہ نجکاری اور کناڈا کی کمپنی ’فیئر فیکس‘ کو اس کی فروخت کے معاملے پر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ایک منافع بخش سرکاری بینک کو نجی ہاتھوں میں سونپنے کی تیاری کر رہی ہے، حالاں کہ اس کی کارکردگی میں بہتری بینک ملازمین کی محنت کا نتیجہ ہے۔ راہل گاندھی نے آئی ڈی بی آئی بینک کے ملازمین کے نام ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے ان کی جدوجہد میں ساتھ دینے اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
راہل گاندھی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں لکھا، ’’کانگریس کے دور میں آئی ڈی بی آئی قائم کیا گیا تاکہ ملک کی صنعت کو مضبوط بنایا جاسکے۔ مودی کے دور میں پہلے بولی دیکھی گئی، پھر قیمت طے ہوئی۔ کانگریس کے دور میں بینک بنتے تھے، مودی کے دور میں فروخت ہوتے ہیں۔ میں آئی ڈی بی آئی بینک کے ملازمین کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘‘ اس پیغام کے ساتھ انہوں نے 29 اکتوبر کو دستخط شدہ ایک کھلا خط بھی شیئر کیا، جو آئی ڈی بی آئی بینک کے ملازمین کے نام ہے۔
اپنے خط میں راہل گاندھی نے گزشتہ سال مارچ میں پارلیمنٹ ہاؤس میں بینک ملازمین کے ایک وفد سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ اس ملاقات میں ملازمین نے ان سے سوال کیا تھا کہ حکومت اس بینک کو کیوں فروخت کرنا چاہتی ہے، جسے ملازمین نے اپنی محنت سے منافع بخش بنایا ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق، انہوں نے یہ معاملہ لوک سبھا میں بھی اٹھایا اور حکومت سے پوچھا تھا کہ ایک منافع بخش سرکاری بینک کو فروخت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے اور اس کے ملازمین و کھاتہ داروں کے مفادات کا تحفظ کس طرح کیا جائے گا۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت نے ان سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا اور اب بینک کو کناڈا کی کمپنی فیئر فیکس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا جارہا ہے۔
خسارے سے نکل کر 9 ہزار کروڑ سے زیادہ منافع کمانے کا حوالہ
راہل گاندھی نے آئی ڈی بی آئی بینک کی تاریخ اور اس کی مالی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کا آغاز ایک ترقیاتی بینک کے طور پر ہوا تھا۔ بعد میں اسے تجارتی بینک میں تبدیل کیا گیا، جس کے دوران اسے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ملازمین نے مسلسل محنت کرکے بینک کو اس مقام تک پہنچایا۔
انہوں نے لکھا کہ سات سال قبل آئی ڈی بی آئی بینک خسارے میں تھا، لیکن گزشتہ سال اس نے 9 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا منافع حاصل کیا۔ راہل گاندھی کے مطابق، یہ کامیابی بینک کے ملازمین کی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بینک کی مالی حالت بہتر ہوچکی ہے تو پھر اسے فروخت کرنے کا جواز کیا ہے؟
حکومت اور ایل آئی سی کی 95 فیصد حصہ داری کا حوالہ
راہل گاندھی نے اپنے خط میں بینک کی موجودہ ملکیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) کی مجموعی طور پر آئی ڈی بی آئی بینک میں تقریباً 95 فیصد حصہ داری ہے، لیکن مجوزہ فروخت کے بعد یہ حصہ داری گھٹ کر تقریباً 34 فیصد رہ جائے گی۔
انہوں نے 2003 میں پارلیمنٹ میں کیے گئے ایک وعدے کا بھی ذکر کیا، جس کے مطابق حکومت نے آئی ڈی بی آئی بینک میں کم از کم 51 فیصد حصہ داری برقرار رکھنے کی بات کہی تھی۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وعدے کو قانون کا حصہ نہیں بنایا گیا، لیکن پارلیمنٹ میں کیا گیا وعدہ ملک کے عوام سے کیا گیا وعدہ ہوتا ہے۔
ریزرویشن اور ملازمین کے مستقبل پر بھی تشویش
راہل گاندھی نے بینک کی نجکاری کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملکیت نجی ہاتھوں میں جانے سے درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے امیدواروں کے لیے ریزرویشن کا موجودہ نظام متاثر ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ملازمین کی ملازمت کی شرائط اور ان کے حقوق کے تحفظ پر بھی سوال اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبے کے ادارے محض فروخت کیے جانے والے اثاثے نہیں ہیں، بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کانگریس ہمیشہ ایسے مضبوط سرکاری شعبے کی حمایت کرتی رہی ہے جو نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرے۔
خط کے آخر میں راہل گاندھی نے آئی ڈی بی آئی بینک کے ملازمین کو یقین دلایا کہ وہ ان کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے تمام جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے ملازمین سے اتحاد برقرار رکھنے اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل بھی کی۔
واضح رہے کہ آئی ڈی بی آئی بینک کی مجوزہ فروخت کے خلاف ملازمین نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ قومی آواز کی رپورٹ کے مطابق، ملازمین نے 2 اور 3 نومبر کو ملک گیر ہڑتال کی اپیل بھی کی ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر سرکاری بینکوں کی نجکاری، ملازمین کے حقوق اور عوامی اداروں کی ملکیت سے متعلق بحث کو تیز کردیا ہے۔