عدالت کا زور، مظاہروں کے لیے ایسی جگہیں اور مدت مقرر کی جائے جس سے دیہاڑی دار مزدوروں، چھابڑی والوں اور چھوٹے تاجروں کا روزگار متاثر نہ ہو؛ کسی ایک گروپ کو غیر معینہ مدت تک کسی مقام پر قبضے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ احتجاج کا آئینی حق دوسروں کی روزی روٹی اور کاروبار کو متاثر کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ احتجاج کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کیا جانا چاہیے جہاں مظاہروں کی وجہ سے عام لوگوں، خصوصاً دیہاڑی دار مزدوروں، چھابڑی والوں اور چھوٹے تاجروں کے روزگار پر اثر نہ پڑے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی ایک گروپ کو کسی عوامی مقام پر غیر معینہ مدت تک قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
منگل کو چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئمالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ مختلف درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی۔ ان میں دہلی کی کرانہ کمیٹی کی جانب سے دائر درخواست بھی شامل تھی، جس میں رام لیلا میدان میں جاری احتجاج کے سبب کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے اور تاجروں کو نقصان پہنچنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
احتجاج اور تجارت دونوں آئینی حقوق
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے میں دو اہم حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ ایک طرف دستور ہند کے تحت ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے تو دوسری طرف تجارت اور روزگار کا حق بھی آئینی تحفظ رکھتا ہے۔ عدالت نے خاص طور پر ان لوگوں کی مشکلات کی طرف توجہ دلائی جو روزانہ کی کمائی پر اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم روزی روٹی کے ذرائع کی بات کر رہے ہیں۔ دیہاڑی دار مزدور، سبزی فروش اور چھابڑی والے اپنی روزمرہ کی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔ اس لیے احتجاج کے لیے ایسی عوامی جگہوں کی نشاندہی ہونی چاہیے جہاں مظاہروں سے غریب اور محنت کش طبقے کی زندگی متاثر نہ ہو۔
تاجروں نے کاروبار ٹھپ ہونے کی شکایت کی
تاجروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل مکل روہتگی نے عدالت کو بتایا کہ احتجاجی مقام کے آس پاس لاکھوں افراد رہتے ہیں، لیکن مظاہروں کی وجہ سے دکانیں بند ہیں اور کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کنوٹ پلیس جیسے اہم تجارتی علاقے میں بھی خریداروں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
اس پر عدالت نے کہا کہ جب تک تاجروں کی تنظیمیں احتجاج کرنے والی تنظیموں کو بھی مقدمے میں فریق نہیں بناتیں، اس وقت تک تمام متعلقہ فریقوں کا موقف سنے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ بنچ نے مرکز اور دیگر متعلقہ فریقوں سے بھی جواب طلب کیا ہے۔
مظاہروں کے لیے جگہ اور مدت دونوں طے ہوں
سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ جنتر منتر ایک عوامی سڑک ہے، احتجاج کے لیے مخصوص مقام نہیں، جبکہ وہاں ہر سال تقریباً 1300 احتجاج ہوتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 20 جولائی کو ایک دن کے احتجاج کی اجازت دی گئی تھی، لیکن مظاہرین نے 17 دن تک اس مقام پر اپنا دھرنا جاری رکھا اور اجازت کے بغیر پارلیمنٹ کی جانب مارچ بھی کیا۔
چیف جسٹس نے اس معاملے پر اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک گروپ کو کسی جگہ پر ہمیشہ کے لیے قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دوسرے گروپوں کو بھی احتجاج کا حق حاصل ہے۔ کسان، صحافی، مزدور اور ٹریڈ یونینیں بھی اپنے مسائل کے لیے احتجاج کرنا چاہتی ہیں، اس لیے کسی ایک گروپ کو مستقل طور پر کسی مقام پر قابض نہیں رہنے دیا جا سکتا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ احتجاج کے لیے ایک مخصوص مقام مقرر کیا جا سکتا ہے، لیکن اجازت دیتے وقت اس کی مدت بھی واضح ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ احتجاج کی مدت میں مزید توسیع کیوں نہیں کی جا رہی ہے، کیونکہ دوسرے گروپ بھی اسی مقام پر احتجاج کی اجازت کے منتظر ہو سکتے ہیں۔
تاجروں نے تہواروں کے دوران احتجاج روکنے کا مطالبہ کیا
دیوالی کے تہوار کا حوالہ دیتے ہوئے مکل روہتگی نے عدالت سے اپیل کی کہ تاجروں کے نقصان کو دیکھتے ہوئے آئندہ دو ماہ تک کسی جلوس یا دھرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہواروں کے موسم میں کاروبار پہلے ہی متاثر ہو رہا ہے اور احتجاج کی وجہ سے تاجروں کو مزید مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب احتجاج کرنے والوں کی طرف سے پیش ہونے والی سینئر وکیل مینکا گروسوامی نے دلیل دی کہ جنتر منتر احتجاج کے لیے نامزد مقام رہا ہے اور ان مقامات پر کسی قسم کا تشدد نہیں ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تشدد پولیس کی جانب سے کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں یہ سماعت چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج سے متعلق مختلف درخواستوں کے سلسلے میں ہوئی۔ ان درخواستوں میں احتجاج کے دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، پولیس کی مبینہ زیادتیوں، میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور انٹرنیٹ خدمات معطل کیے جانے جیسے معاملات بھی اٹھائے گئے ہیں۔