نیویارک ٹائمز اور سیانا یونیورسٹی کے سروے میں ٹیکساس، کنساس، مین اور اوہائیو سمیت کئی ریاستوں میں ڈیموکریٹک امیدوار آگے؛ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے ووٹروں کی ناراضگی ریپبلکنز کے لیے چیلنج بن گئی۔
واشنگٹن: امریکہ میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان تصور کیے جا رہے ہیں، کیونکہ ان کے نتائج سے امریکی کانگریس میں طاقت کا توازن طے ہوگا۔ تازہ انتخابی سروے کے مطابق، سینیٹ کی دوڑ میں ڈیموکریٹک پارٹی کو کئی اہم ریاستوں میں ریپبلکن امیدواروں پر برتری حاصل ہے، جس سے کانگریس میں دوبارہ اکثریت حاصل کرنے کی اس کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں 23 کروڑ سے زائد اہل ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس کی کوشش ہے کہ وہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرکے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر مؤثر سیاسی نگرانی قائم کر سکیں۔
سات اہم ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی پوزیشن مضبوط
نیویارک ٹائمز اور سیانا یونیورسٹی کے تازہ سروے کے مطابق، سینیٹ کی دوڑ میں تقریباً سات اہم ریاستوں میں ڈیموکریٹک امیدوار ریپبلکنز کو سخت مقابلہ دے رہے ہیں۔ خاص طور پر ٹیکساس اور کنساس جیسی روایتی ریپبلکن ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی برتری کو غیر معمولی سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سروے کے مطابق، کنساس، مین، اوہائیو اور ٹیکساس میں ڈیموکریٹک امیدوار آگے ہیں، جبکہ ایک اور ریاست میں دونوں جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ تقریباً برابر ہے۔
ٹیکساس میں 1988 کے بعد سے کوئی ڈیموکریٹ سینیٹ کی نشست نہیں جیت سکا، جبکہ کنساس میں آخری مرتبہ 1932 میں ڈیموکریٹک امیدوار سینیٹر منتخب ہوا تھا۔ ایسے میں ان ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی موجودہ پوزیشن ریپبلکن پارٹی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنا بڑا چیلنج
سروے میں ڈیموکریٹس کی بہتر پوزیشن کے باوجود سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنا ان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ اکثریت حاصل کرنے کے لیے انہیں اپنی تمام موجودہ نشستیں برقرار رکھنے کے ساتھ ریپبلکنز کی کم از کم چار نشستیں بھی جیتنی ہوں گی۔ اس کے لیے انہیں کئی روایتی ریپبلکن گڑھوں میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔
ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی، ریپبلکنز کے لیے پریشانی
قومی سطح پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی اور معاشی پالیسیوں سے متعلق ووٹروں کی ناراضگی ریپبلکن امیدواروں کے لیے ایک بڑا انتخابی چیلنج بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ تازہ سروے کے مطابق، ممکنہ ووٹروں میں صرف 38 فیصد افراد صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، ان انتخابات کے نتائج نہ صرف کانگریس میں دونوں جماعتوں کی طاقت کا تعین کریں گے بلکہ یہ بھی واضح کریں گے کہ صدر ٹرمپ کی حکومت کو عوامی سطح پر کتنی حمایت حاصل ہے۔