کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران ’آزاد کشمیر‘ کا کوئی نعرہ نہیں لگایا گیا۔ طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ یونین بحال کی جائے۔
نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ’آزاد کشمیر‘ کے نعرے لگائے جانے کے الزام پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے تردید کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران ایسا کوئی نعرہ نہیں لگایا گیا۔ مسعود احتجاج کرنے والے طلبہ سے ملاقات کے لیے جامعہ پہنچے تھے، جہاں دہلی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے عمران مسعود نے کہا کہ احتجاج کے دوران ’آزاد کشمیر‘ کا ایک بھی نعرہ نہیں لگایا گیا۔ ان کے مطابق، انہوں نے خود سب کے سامنے ایسے نعروں کی مذمت کی اور واضح کیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔
مسعود نے کیمپس میں جموں و کشمیر سے متعلق پوسٹر لگائے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پوسٹر لگانے والے لوگ طلبہ کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور ان کا احتجاج سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ پوسٹر لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
پولیس کی حراست میں لیے جانے سے قبل عمران مسعود نے طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے خدشات جائز ہیں اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ طلبہ یونین بحال کیوں نہیں کی جا رہی؟ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ ملک کا مستقبل ہیں اور ان کی آواز کو دبانے کے بجائے ان کے مسائل پر توجہ دی جانی چاہیے۔
دریں اثنا، طلبہ کے مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال اور احتجاج کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ انتظامیہ نے سات رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کرنا، ان کے مطالبات کا جائزہ لینا اور کیمپس میں معمول کے حالات بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات تجویز کرنا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا یہ فیصلہ 18 اکتوبر کو اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس کے بعد سامنے آیا تھا۔ اجلاس میں وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف، رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، کنٹرولر امتحانات پروفیسر احتشام الحق اور دیگر متعلقہ عہدیدار شریک ہوئے تھے۔ ان میں مختلف فیکلٹیز کے ڈین، ڈین اسٹوڈنٹ ویلفیئر، ڈین اکیڈمک افیئرز، چیف پراکٹر اور ہاسٹل پرووسٹ بھی شامل تھے۔
انتظامیہ کے مطابق، کمیٹی طلبہ کے مطالبات پر غور کرے گی اور کیمپس میں معمول کی صورت حال بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی سفارش کرے گی۔