48 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن میں جنگی جہاز، نگرانی کرنے والے طیارے اور میرین کمانڈوز نے حصہ لیا؛ 12 مشتبہ صومالی بحری قزاقوں کو غیر مسلح کیا گیا۔
موغادیشو: ہندوستانی بحریہ نے صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا کی گئی ایرانی ماہی گیر کشتی اور اس کے عملے کے 20 ارکان کو ایک کامیاب فوجی آپریشن کے ذریعے بحفاظت بازیاب کرا لیا ہے۔ ہندوستان کی وزارتِ دفاع نے منگل کو بتایا کہ یہ کارروائی 48 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس میں بحریہ کے جنگی جہاز، سمندری نگرانی کرنے والے طیارے اور خصوصی میرین کمانڈوز نے حصہ لیا۔ آپریشن کے دوران 12 مشتبہ صومالی بحری قزاقوں کو بھی غیر مسلح کیا گیا۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ ‘ازینی’ (Al-Azizi) نامی ایرانی ماہی گیر کشتی کو پیر کے روز بحیرۂ عرب میں بازیاب کرایا گیا۔ یہ مقام ممبئی سے تین ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق، اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور بازیاب کرائے گئے عملے کے ارکان محفوظ ہیں۔
فضائی اور سمندری طاقت کا مشترکہ آپریشن
وزارتِ دفاع کے مطابق، ہندوستانی فورسز نے کارروائی سے پہلے سمندر اور فضا دونوں راستوں سے اغوا شدہ کشتی کی مسلسل نگرانی کی۔ آپریشن میں ہندوستانی بحریہ کے ایک جنگی جہاز اور سمندری نگرانی کرنے والے طیارے کے علاوہ میرین کمانڈوز بھی شامل تھے۔ مزید کمانڈوز کو ہندوستانی فضائیہ کے سی-17 (C-17) طیارے کے ذریعے پیراشوٹ کی مدد سے اتارا گیا۔
وزارت نے بتایا کہ اس کارروائی کی ایک اہم وجہ یہ خدشہ تھا کہ بحری قزاق ایرانی ماہی گیر کشتی کو اپنے قبضے میں رکھ کر اسے تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کے لیے تیرتے ہوئے اڈے (Floating Base) کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
12 مشتبہ بحری قزاق غیر مسلح
پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس فورس کے ایک عہدیدار کے مطابق، ہندوستانی فورسز نے کشتی پر موجود صومالیہ کے 12 مشتبہ بحری قزاقوں کو غیر مسلح کیا اور ان کے موبائل فون بھی ضبط کر لیے۔ بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔ یہ افراد دو صومالی سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ شمال مشرقی صومالیہ کے علاقے بندر بیلا میں ساحل پر پہنچے۔
عہدیدار نے بتایا کہ ساحل پر پہنچنے والے افراد میں سے تین کو معمولی چوٹیں آئی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ زخمی ہونے والے افراد مشتبہ قزاقوں میں شامل تھے یا سیکیورٹی گارڈز۔ دوسری طرف ہندوستانی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران کوئی ہلاکت یا زخمی ہونے کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس بیان سے متعلق یہ وضاحت سامنے نہیں آئی کہ آیا اس کا اطلاق کشتی پر موجود تمام افراد پر ہوتا ہے یا صرف بازیاب کرائے گئے عملے پر۔
کشتی کے عملے کی تعداد میں تضاد
رپورٹ کے مطابق، ‘ازینی’ کو 29 اکتوبر کو بندر بیلا اور حافون کے درمیان اغوا کیا گیا تھا۔ پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس کے ایک عہدیدار نے اتوار کو بتایا تھا کہ کشتی پر 21 ایرانی عملے کے ارکان اور دو صومالی سیکیورٹی گارڈز سوار تھے۔ تاہم ہندوستانی وزارتِ دفاع نے بازیاب کرائے گئے عملے کی تعداد 20 بتائی ہے۔ دونوں بیانات میں عملے کی تعداد کے فرق کی فوری طور پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔
صومالی بحری قزاقی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خلیجِ عدن اور مغربی بحرِ ہند میں صومالی بحری قزاقی کے واقعات دوبارہ بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، رواں سال اپریل سے اگست کے درمیان قزاقوں نے چھ تجارتی جہازوں کو اغوا کیا۔ ان میں تیل کی مصنوعات لے جانے والا ٹینکر ‘سیبو ون’ بھی شامل تھا، جسے یمن کے شہر المکلہ کے مشرق میں تقریباً 252 کلومیٹر کے فاصلے پر قبضے میں لیا گیا تھا۔
ستمبر میں پنٹ لینڈ کے حکام نے بتایا تھا کہ بحری قزاقوں کے قبضے سے ایک اور ٹینکر ‘ایم ٹی آنر 25’ کو بازیاب کرانے سے قبل اس کے عملے کے پانچ ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ جہاز اپریل سے قزاقوں کے قبضے میں تھا۔ حکام کے مطابق، اس معاملے میں 16 مشتبہ قزاقوں کو حراست میں بھی لیا گیا تھا۔
بحری قزاقی کے ان واقعات نے پہلے سے ہی علاقائی کشیدگی اور بحری راستوں میں عدم تحفظ کا سامنا کرنے والی بین الاقوامی تجارت کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن اور آبنائے باب المندب کے اطراف جاری کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ اور اخراجات دونوں بڑھ رہے ہیں۔
اگرچہ بین الاقوامی بحری گشت اور بہتر سیکیورٹی انتظامات کے باعث گزشتہ دہائی میں صومالی بحری قزاقی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی تھی، لیکن حالیہ اغوا کی وارداتوں نے ایک بار پھر اس خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔