وزارتِ تعلیم کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک ہزاروں طلبہ بھی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ کے 97 فیصد اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے اور تعلیمی شعبے کو تقریباً 4 ارب ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران اساتذہ، طلبہ اور دیگر تعلیمی عملے کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ غزہ کی وزارتِ تعلیم کے ڈائریکٹر احمد النجار نے انکشاف کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اسرائیلی جنگ کے بعد سے اب تک 800 سے زائد اساتذہ شہید اور 3300 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
احمد النجار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران بھی کئی اساتذہ اسرائیلی حملوں کی زد میں آکر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ تقریباً ایک ہفتہ قبل استاد احمد ابو عودہ شہید ہوئے، جبکہ ہفتہ 31 اکتوبر کو استاد ضیاء ابو الروس اسکول جاتے ہوئے اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔ اسی روز استاد وائل مسلم نے بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ وہ مغربی غزہ کے عدنان العلمی اسکول میں انگریزی کے استاد تھے۔
احمد النجار نے کہا کہ کسی استاد کو نشانہ بنانا محض ایک فرد کی جان لینے کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے ذریعے اسکول، علمی ورثے اور نئی نسل کے مستقبل کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ فلسطینی نسلوں کو تعلیم اور زندگی کے بنیادی حق سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔
غزہ کی وزارتِ تعلیم نے اساتذہ اور طلبہ کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کارروائیوں کا مکمل ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا ہے۔ وزارت نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں کو رکوانے، ذمہ داروں کا احتساب کرنے اور شہریوں سمیت تعلیمی عملے کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں۔
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ تین برسوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں غزہ کے تقریباً 97 فیصد اسکول براہِ راست یا بالواسطہ متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 87 فیصد اسکولی عمارتوں کو اس قدر نقصان پہنچا ہے کہ انہیں دوبارہ تعمیر یا بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 22 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اساتذہ اور تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کی ہلاکتوں کی تعداد 1100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس کے علاوہ 194 دانشور، ماہرینِ تعلیم اور محققین بھی شہید ہو چکے ہیں۔
تعلیمی شعبے کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ غزہ میں 6 لاکھ 50 ہزار سے زائد اسکول جانے والے بچوں اور تقریباً 90 ہزار یونیورسٹی طلبہ کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس دوران غزہ کے 17 اعلیٰ تعلیمی ادارے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ 80 اسکولی عمارتوں پر براہِ راست بمباری کی گئی ہے۔
سرکاری میڈیا آفس کے مطابق غزہ کے تعلیمی شعبے کو پہنچنے والے ابتدائی براہِ راست مادی نقصان کا تخمینہ تقریباً 4 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔