مرکزی حکومت نے مردم شماری کے پہلے مرحلے کی تاریخوں کا اعلان کر دیا؛ 10 سے 24 جنوری تک خود شماری کی سہولت، 25 جنوری سے 28 فروری تک گھر گھر پہنچیں گے اہلکار
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ملک میں مردم شماری 2027 کے پہلے مرحلے کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ عمل 25 جنوری سے 28 فروری 2027 تک جاری رہے گا۔ مردم شماری کے لیے یکم مارچ 2027 کی آدھی رات کو حوالہ جاتی تاریخ مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم، برف باری سے متاثرہ علاقوں اور اسمبلی انتخابات والے بعض علاقوں میں فی الحال مردم شماری نہیں ہوگی۔ ان علاقوں کے لیے الگ سے تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔
ہندوستان کے رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر مرتیونجے کمار نارائن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ مردم شماری کا عمل تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مکمل کیا جائے گا، البتہ منی پور اور بعض برف باری والے علاقوں کو فی الحال اس عمل سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان علاقوں میں لداخ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گوا، اتر پردیش، پنجاب اور اتراکھنڈ جیسی انتخابی ریاستوں میں بھی موجودہ شیڈول کے تحت مردم شماری نہیں ہوگی۔ ان علاقوں کے لیے بعد میں نئی تاریخیں مقرر کی جائیں گی۔
خود شماری کی بھی ملے گی سہولت
مردم شماری 2027 میں پہلی مرتبہ لوگوں کو خود اپنے خاندان اور رہائش سے متعلق تفصیلات درج کرنے کا موقع بھی دیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے 10 جنوری سے 24 جنوری 2027 تک خود شماری (سیلف اینومریشن) کی سہولت دستیاب ہوگی۔ اس کے بعد 25 جنوری سے مردم شماری کے اہلکار گھر گھر جاکر معلومات جمع کریں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، یکم مارچ سے 5 مارچ 2027 تک نظرثانی کا مرحلہ بھی ہوگا، جس میں مردم شماری کے اندراجات کا جائزہ لیا جائے گا اور ضروری تصحیح کی جائے گی۔
دو مرحلوں میں مکمل ہوگی مردم شماری
ملک کی یہ مردم شماری دو مرحلوں میں مکمل کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں گھروں کی فہرست سازی اور رہائش سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں آبادی کی اصل گنتی ہوگی۔ اس دوران ملک کی آبادی، خاندانوں اور دیگر متعلقہ تفصیلات کا ریکارڈ تیار کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ہندوستان میں ہر دس سال بعد مردم شماری کرائی جاتی ہے۔ مردم شماری 2021 کا انعقاد ہونا تھا، لیکن کورونا وبا کے باعث اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اب یہ آزادی کے بعد آٹھویں مردم شماری ہوگی۔
مردم شماری پر 11,718 کروڑ روپے خرچ ہوں گے
مرکزی کابینہ نے مردم شماری کے اس بڑے عمل کے لیے 11,718 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری دی ہے۔ اسے ملک کی اب تک کی سب سے بڑی مردم شماری مہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ہندوستان میں آخری مردم شماری 2011 میں ہوئی تھی۔ اس وقت ملک کی مجموعی آبادی تقریباً 121 کروڑ ریکارڈ کی گئی تھی، جس میں 62.32 کروڑ مرد اور 58.75 کروڑ خواتین شامل تھیں۔ اس مردم شماری کے مطابق، ملک میں تقریباً 24.95 کروڑ خاندان تھے۔
تقریباً ڈیڑھ دہائی کے وقفے کے بعد ہونے والی مردم شماری 2027 سے ملک کی نئی آبادی اور سماجی و رہائشی صورت حال سے متعلق اہم اعداد و شمار سامنے آئیں گے۔ یہ اعداد و شمار مستقبل کی سرکاری پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اسکیموں کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔