پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی دہلی میں سی این جی بھی مہنگی کر دی گئی ہے، جس کے بعد عام لوگوں کی پریشانی مزید بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہوگا، اور اس کا سیدھا اثر روزمرہ استعمال کی اشیاء، سبزیوں، دودھ اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں پر پڑے گا۔ یعنی آنے والے دنوں میں عوام کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اس اضافے پر کانگریس نے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید حملہ بولا ہے۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’پٹرول اور ڈیزل 3-3 روپے مہنگا کر دیا گیا، جبکہ سی این جی کی قیمت میں بھی 2 روپے کا اضافہ ہوا۔ انتخاب ختم، اب وصولی شروع۔‘‘ پارٹی نے الزام لگایا کہ حکومت مسلسل عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال رہی ہے۔
کانگریس نے وزیر اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’مہنگائی مین مودی نے آج پھر عوام پر ہنٹر چلایا۔‘‘ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے یہ اضافہ ایک اور بڑا دھچکا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی بڑی راحت کا اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔