cایران اور امریکہ کے درمیان عبوری امن معاہدے کے بعد اگرچہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت معمول پر آنا شروع ہو گئی تھی، لیکن ایک تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر خطے میں تناؤ بڑھا دیا ہے۔ 26 جون کو ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین غیر ملکی تیل بردار جہازوں کو روک کر واپس خلیج کی جانب بھیج دیا، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر دوڑ گئی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان جہازوں نے ایرانی حکام سے ضروری رابطہ اور اجازت حاصل کیے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی تھی۔ اس پر اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی بحریہ نے کارروائی کرتے ہوئے تینوں ٹینکرز کو آگے بڑھنے سے روک دیا اور انہیں واپس جانے کی ہدایت دی۔
اس واقعے کے بعد ایرانی بحریہ نے خلیج اور بحیرۂ عمان میں موجود تمام بحری جہازوں کے لیے نیا انتباہ بھی جاری کیا۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو ایرانی قوانین اور ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، جبکہ ایران کی منظوری کے بغیر کسی متبادل یا نئے بحری راستے کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔