جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہنے کا دعویٰ؛ اسرائیل نے رپورٹ کو مسترد کر دیا۔
یروشلم: اقوام متحدہ کے مقرر کردہ آزاد تحقیقاتی کمیشن کی تازہ رپورٹ میں اسرائیلی فوج اور جیل کے محافظوں پر فلسطینی مرد و خواتین قیدیوں کے ساتھ جنسی تشدد، زیادتی، غیر انسانی سلوک اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2023 سے فلسطینی قیدیوں کو حراست کے دوران مختلف اقسام کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کمیشن نے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور علاقے پر قبضے میں توسیع پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی اقدامات فلسطینی آبادی کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے ارادے سے کیے جانے والے اقدامات کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کمیشن پر غلط معلومات پھیلانے اور اسرائیل کی قانونی حیثیت کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔
فلسطینی خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے الزامات
تحقیقاتی کمیشن کے مطابق، فلسطینی خواتین قیدیوں کے ساتھ تلاشی اور دورانِ حراست توہین آمیز سلوک کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں ایک حاملہ فلسطینی خاتون کا ذکر ہے، جسے مبینہ طور پر خواتین محافظوں نے تلاشی کے لیے کپڑے اتارنے پر مجبور کیا۔ ایک دوسرے واقعے میں زیرِ حراست خاتون کو تشدد کا نشانہ بنانے، نازیبا جملے کہنے اور بیت الخلا یا سینیٹری پیڈز تک رسائی سے محروم رکھنے کے الزامات درج کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس سلوک کے نتیجے میں خاتون کے کپڑے اور تفتیشی کرسی خون سے آلودہ ہو گئے۔
کمیشن نے کہا ہے کہ ان واقعات کو تفصیل کے ساتھ دستاویزی شکل دینے کا مقصد مبینہ جرائم کی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے احتساب کی راہ ہموار کرنا ہے۔ رپورٹ میں جمع کیے گئے شواہد کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سمیت متعلقہ قانونی ادارے انصاف کی کارروائیوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔
مرد فلسطینی قیدیوں پر جنسی تشدد کے واقعات بھی رپورٹ
رپورٹ میں اسرائیل کے سدی تیمان فوجی حراستی مرکز میں غزہ سے لائے گئے مرد فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے چھ واقعات درج کیے گئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق، بعض واقعات میں قیدیوں کو انتہائی توہین آمیز اور اذیت ناک سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں ایک قیدی کے ساتھ ایک آلے کے ذریعے جنسی زیادتی اور اس کے بعد اسے مزید توہین آمیز عمل پر مجبور کرنے کا الزام بھی شامل ہے۔ ایک دوسرے واقعے میں ایک فلسطینی مرد قیدی کے اعضائے تناسل کے گرد پلاسٹک کی ڈوری باندھنے اور اسے پیشاب کرنے کا حکم دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔ کمیشن نے ان واقعات کو جنسی تشدد اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزیوں کے طور پر دستاویزی شکل دی ہے۔
مغربی کنارے میں جنگی جرائم کے الزامات
تحقیقاتی کمیشن نے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں اور جیل کے محافظوں پر عام شہریوں کے قتل، تشدد، عصمت دری، جنسی تشدد کی دیگر اقسام اور ظلم و ستم جیسے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کا احتساب ضروری ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ کمیشن کی رپورٹ جانبدارانہ ہے اور اس کے ذریعے اسرائیل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جنیوا میں اسرائیلی مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر رپورٹ کو غلط معلومات کی مہم قرار دیا اور کمیشن کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسرائیل اس سے قبل بھی غزہ میں نسل کشی اور اس کے فوجیوں کی جانب سے جنسی تشدد کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔
جنگ بندی کے باوجود غزہ میں ہلاکتوں کا سلسلہ
رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی کے دوران بھی اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقے میں توسیع کی۔ کمیشن کا دعویٰ ہے کہ اکتوبر 2023 میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقہ غزہ کی پٹی کے تقریباً 53 فیصد سے بڑھ کر کم از کم 60 فیصد تک پہنچ گیا۔ اس دوران اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم 196 فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں 18 خواتین، 32 لڑکے اور 11 لڑکیاں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر کیے گئے حملوں میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ ان حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائی شروع کی۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، اس جنگ میں اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی یہ رپورٹ فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، جنسی تشدد اور غزہ میں جنگ بندی کے بعد کی صورتِ حال سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ تاہم، رپورٹ میں درج الزامات اور ان کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین متعلقہ عدالتی کارروائیوں اور شواہد کے جائزے کے ذریعے کیا جائے گا۔