سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ دفاعی و سکیورٹی حکام کی ایرانی قیادت سے علاقائی سلامتی پر بات چیت؛ کشیدگی میں کمی، سفارت کاری کے فروغ اور مشترکہ تعاون پر تبادلہ خیال
اسلام آباد: مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ دفاعی و سکیورٹی حکام نے پیر کو تہران میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے ملاقات کی۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں علاقائی سلامتی کی صورت حال، موجودہ تنازعات اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق، اجلاس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترکی کی انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکت کی۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی مذاکرات میں شریک تھے، جبکہ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کی موجودگی کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق، مذاکرات میں علاقائی سلامتی، فوجی کارروائیوں کے اثرات اور فلسطین و لبنان کی حمایت جیسے امور زیرِ بحث آئے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مختلف محاذوں پر تصادم کے دائرے میں مزید ممالک کے شامل ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں اور تہران کا دوسرا دورہ
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایک ہفتے کے اندر تہران کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کر چکے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق، چار فریقی اجلاس کی تجویز پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس کا مقصد علاقائی سلامتی کے امور پر مشاورت اور تعاون کے امکانات تلاش کرنا تھا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام کا دورہ مغربی ایشیا میں علاقائی ممالک پر مبنی سلامتی کے نظام کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس تصور کے تحت خطے کے ممالک بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بجائے باہمی تعاون کے ذریعے اپنے سلامتی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
مکہ دفاعی معاہدہ اور علاقائی استحکام
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اگست میں دستخط کیے گئے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حصہ ہیں۔ خبر کے مطابق، اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ تہران میں ہونے والی یہ ملاقات اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ معاہدے کے رکن ممالک ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے ذریعے علاقائی سلامتی اور کشیدگی میں کمی کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کریملی نے اس ملاقات کو بحران کے حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، ان کوششوں کا مقصد تنازع میں شامل فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنا، مذاکرات کو فروغ دینا، سفارتی حل کی راہ ہموار کرنا اور قطر و پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کریملی نے کہا کہ یہ دورہ علاقائی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے میں مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
یہ اجلاس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں علاقائی ممالک کے درمیان رابطوں اور سفارتی مشاورت کی ایک اہم کوشش ہے۔ تاہم، اس بات کا اندازہ آئندہ مذاکرات اور عملی اقدامات سے ہوگا کہ یہ رابطے علاقائی تنازعات میں کمی اور دیرپا استحکام کے قیام میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔