بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے دسمبر میں وطن واپسی کے اعلان کے بعد ملک کی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے ان کے اعلان پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بعض حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واپس آ کر عدالتی کارروائی کا سامنا کریں، جبکہ دیگر جماعتوں نے اس پیش رفت کو سیاسی حکمت عملی قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ دسمبر میں اپنی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنان کے ساتھ بنگلہ دیش واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق، وہ حکام کے سامنے خود کو قانون کے حوالے کرنے پر بھی غور کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ شیخ حسینہ اور ان کی جماعت کے کئی رہنما اس وقت ہندوستان میں مقیم ہیں۔
دوسری جانب بنگلہ دیشی اخبار پرتھم آلو کے مطابق نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے کنوینر ناہید اسلام نے انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر شیخ حسینہ بنگلہ دیش واپس آتی ہیں تو انہیں اپنے خلاف جاری عدالتی فیصلے اور سزا کا سامنا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ برقرار رہتا ہے تو اس پر بھی قانون کے مطابق عمل درآمد ہونا چاہیے۔
ناہید اسلام نے مزید کہا کہ ان کی جماعت صرف شیخ حسینہ ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کے خلاف عدالتی فیصلوں پر یکساں عمل درآمد کی حامی ہے جسے قانون کے تحت سزا سنائی جا چکی ہو۔ ان کے مطابق، قانون کی بالادستی اور عدالتی فیصلوں پر بلاامتیاز عمل ہی ملک میں انصاف کو یقینی بنا سکتا ہے۔