سپریم کورٹ میں مظاہرین کی حراست، پولیس کارروائی اور میٹرو اسٹیشنوں کی بندش سے متعلق درخواستوں پر سماعت ملتوی؛ چیف جسٹس نے عدالتی کام کاج اور وکلاء و عام لوگوں کی آمدورفت متاثر نہ ہونے دینے پر زور دیا
نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر دہلی میں ہونے والے احتجاج سے قبل مبینہ حراست، پولیس کارروائی اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندیوں کے خلاف دائر متعدد عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔ بینچ کے ایک جج کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث سماعت 15 اکتوبر تک ٹال دی گئی۔ ان عرضیوں میں مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی اور میٹرو اسٹیشنوں کی بندش سمیت مختلف اقدامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں جسٹس جویمالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بینچ کے سامنے منگل کو یہ معاملہ سماعت کے لیے آیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بتایا کہ جسٹس موہنا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کی رضامندی سے سماعت ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
عرضیوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ احتجاج سے قبل مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور عوامی ٹرانسپورٹ پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ درخواست گزاروں نے ان اقدامات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے عدالت سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی سے متعلق معاملے میں سپریم کورٹ نے دہلی پولیس اور دیگر متعلقہ افسران کو بدھ کی شام تک اپنا جواب داخل کرنے کا وقت دیا ہے۔ اس معاملے میں الزام ہے کہ احتجاج کے دوران عدالت کی ابتدائی ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی اور انڈیا بلاک کے 10 دیگر رہنماؤں کی جانب سے دائر ایک الگ عرضی پر سماعت کے حوالے سے بھی صورت حال واضح نہیں ہے۔ اس درخواست میں الیکشن کمیشن کے کام کاج میں مبینہ بے ضابطگیوں کے علاوہ میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور مبینہ غیر قانونی حراست جیسے معاملات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس درخواست کی سماعت دیگر عرضیوں کے ساتھ ہوگی یا نہیں۔
اس سے قبل پیر کو سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کو سیاسی تنازعات میں نہیں گھسیٹا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمہوری احتجاج ہر شہری کا حق ہے، لیکن اس کے نتیجے میں عدالت کے کام کاج یا وکلاء، عدالتی عملے اور مقدمات سے متعلق افراد کی آمدورفت میں رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔
چیف جسٹس نے احتجاج کے دوران وکلاء کو درپیش مشکلات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری سرگرمیاں اس طرح انجام دی جانی چاہئیں کہ عدالتی کارروائی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور مظاہرین سے بھی اپیل کی کہ عدالت کے کام کاج اور قانونی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔
سپریم کورٹ نے اس سے قبل درخواستوں کی جانچ کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم بعض عرضیوں میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی شرط بھی رکھی گئی تھی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سینئر وکیل پردیپ رے نے بھی اس معاملے میں عدالت کے سامنے اپنے دلائل پیش کیے تھے۔
اب ان عرضیوں پر آئندہ سماعت 15 اکتوبر کو متوقع ہے، جہاں احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی، مبینہ حراست اور ٹرانسپورٹ سے متعلق پابندیوں کے قانونی پہلوؤں پر مزید پیش رفت ہو سکتی ہے۔